عدالتوں سے غیر حاضر پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
اسلام آباد:
عدال نے پیشی پر غیر حاضر رہنے والے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا کے روبرو پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کیخلاف مختلف مواقع پر احتجاج کے مقدمات کی سماعت ہوئی۔
دورانِ سماعت پی ٹی آئی رہنما راجا بشارت، واثق قیوم و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔ بعد ازاں عدالت نے ملزمان کی حاضری کے بعد سماعت ملتوی کردی اور آج کی سماعت سے غیر حاضر ملزمان کو دوبارہ طلبی کے نوٹسز جاری کردیے۔
عدالت نے مسلسل غیر حاضر رہنے والے ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
واضح رہے کہ عدالت نے تھانہ کوہسار، رمنا ،نون، ترنول کے مقدمات کی سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کی ہے۔ اس کے علاوہ تھانہ رمنا کے مقدمہ نمبر 154 اور 155 کی سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کی گئی ہے جب کہ تھانہ کراچی کمپنی کے مقدمہ نمبر 1195 کی سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی ہوئی ہے۔
پی ٹی آئی کارکنان کیخلاف 26نومبر احتجاج، 4 اکتوبر احتجاج ،فیض آباد احتجاج پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔