راولپنڈی ڈسٹرکٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سے سیکڑوں ملازمین کی برطرفی، ورکرز کا بڑے احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
راولپنڈی ڈسٹرکٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت سینیٹری پٹرول ورکرز نے سیکڑوں ملازمین کی برطرفی کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے بڑے احتجاج کا اعلان کر دیا۔
قائدین نے خبردار کیا ہے کہ ہمارے مطالبات تسلیم نہ ہوئے اور برطرف ملازمین کو فی الفور بحال نہ کیا گیا تو نہ صرف احتجاج کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا جبکہ احتجاج کو دھرنے میں تبدیل کر دیا جائے گا جو غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔
دوسری جانب، ملازمین کی برطرفی اور احتجاج کے باعث عالمی ادارہ صحت کی سرویکل کینسر کے خلاف مہم سمیت ڈینگی، پولیو، خسرہ اور ستھرا پنجاب مہم ختم ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا۔
اس ضمن میں پیر کے روز راولپنڈی آل اتحاد سینٹری پٹرول ضلع راولپنڈی کے زیر اہتمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے دفتر میں زبردست احتجاج کیا گیا۔ احتجاج میں اتحاد کے ضلعی صدر منیر معین، محمد شہباز عباسی، فیضان قریشی، مبشر، زرقا میر، سعدیہ بی بی، ناصرہ مسکین، سفیر جدون، سمینہ اشرف، ذیشان ستی سمیت بڑی تعداد میں مرد و خواتین ورکز نے شرکت کی۔
متاثرہ ملازمین نے معمولی کوتاہی پر ایک شوکاز کے بعد برطرفی سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی ایس او پیز کو فالو نہیں کیا جا رہا حالانکہ سنیٹری پٹرول ورکرز نے ہمیشہ کسی بھی مہم میں بڑھ چڑھ کر کام کیا یہاں تک کہ 12ربیع الاول کو بھی ہم نے انسانیت کی خاطر فرائض انجام دیے۔
ملازمین نے بتایا کہ 2015 سے ہم ملازمت کر رہے ہیں، دن رات کام کر کے صرف ایک ایکٹیویٹی پر ہمیں نوکری سے برطرف کر دیا گیا، ہیلتھ ورکرز پر اگر پیڈا ایکٹ لگتا ہے تو محکمہ صحت کے افسران پر کیوں نہیں لگ سکتا۔ محکمہ صحت کے تمام افسران کی کرپشن کے ثبوت موجود ہیں جو انہوں نے ہم سے زبردستی کروائے ہیں، ہم نے کورونا میں دن رات محنت کی اور آج ہمیں نوکری سے فارغ کیا جا رہا ہے۔
ادھر رہنماؤں نے خبردار کیا کہ یہ ایک بڑے سفر کی شروعات ہے، یہ قدم محض احتجاج نہیں بلکہ حقوق کی بحالی کی پیش رفت ہے، احتجاج میں ورکرز کی شمولیت ملازمین کے بیدار و متحد ہونے کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدوجہد عزت، انصاف اور وقار کی جنگ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم سیاسی انتقام نہیں بلکہ انصاف اور عزت کی بحالی چاہتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہمارے مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو احتجاج کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا، اگر ملازمین کو بحال نہ کیا تو احتجاج دھرنے میں تبدیل کرینگے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان احتجاج کا انہوں نے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔