برازیل؛ کرپٹ سیاستدانوں کو ’این آر او‘ دینے پر ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
برازیل کی سڑکوں پر ہزاروں شہری نکل آئے اور حکومت کی سیاستدانوں کو کرپشن اور دیگر مقدمات میں ریلیف دینے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برازیل کی تمام 26 ریاستوں میں کرپشن پر عام معافی کے متنازع بل کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
احتجاج کرنے والوں میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والا شخص شامل ہیں۔ فنکار، طلبا اور سماجی کارکنان سب ہی سڑک پر احتجاج کر رہے ہیں۔
مقررین نے پارلیمنٹ میں منظور کی گئی مجوزہ قانون سازی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جس کے تحت ارکانِ پارلیمان کو گرفتار کرنا یا اِن کے خلاف فوجداری کارروائی کرنا مشکل ہے۔
یہ بل جو گزشتہ ہفتے ایوانِ زیریں سے منظور ہوا تھا اور اب یہ بل سینیٹ میں منظوری کے لیے جائے گا۔
خیال رہے کہ اس بل سے سابق صدر بولسونارو اور اِن کے اتحادیوں کو ممکنہ معافی مل سکتی ہے جنھیں 2023ء میں بغاوت کے جرم میں 27 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔