نیویارک میں دلچسپ واقعہ: امریکی صدر کے قافلے کی وجہ سے فرانسیسی صدر کی گاڑی روک دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے قبل نیویارک میں ایک دلچسپ اور غیر متوقع واقعہ پیش آیا، جب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی گاڑی کو سیکیورٹی اہلکاروں نے عارضی طور پر روک دیا — اور وجہ بنی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قافلہ۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی صدر کے قافلے کی آمد و رفت کے لیے سڑکوں کو عارضی طور پر بند کیا گیا تھا۔ اسی دوران فرانسیسی صدر کا قافلہ بھی اسی شاہراہ پر پہنچا، لیکن سخت سیکیورٹی پروٹوکول کے باعث میکرون کی گاڑی کو بھی رکنے پر مجبور کر دیا گیا۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صدر میکرون گاڑی سے باہر آتے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کال کرتے ہیں۔ ہنستے ہوئے کہتے ہیں:
ذرا راستہ صاف کروائیں!
دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جس نے اس غیر رسمی لمحے کو دلچسپ بنا دیا۔
ڈپلومیسی میں مزاح کا ایک لمحہ
عینی شاہدین کے مطابق یہ صورتحال صرف چند لمحوں تک جاری رہی، جس کے بعد فرانسیسی صدر کا قافلہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔
بین الاقوامی میڈیا نے اس واقعے کو “ڈپلومیسی میں ہلکی پھلکی مزاح کا لمحہ” قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے لمحات نہ صرف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کی جھلک دکھاتے ہیں، بلکہ عالمی رہنماؤں کے انسانی پہلو کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ نیویارک میں جاری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت و حکومت شریک ہیں، جس کے باعث شہر میں غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکی صدر
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔