اسرائیل کی پالیسی مذاکرات پر بلاکر اپنے مخالفین کو قتل کرنا ہے؛ امیرِ قطر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے دوحہ حملے اور "گریٹر اسرائیل" منصوبے کی مذمت کی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امیر قطر نے اسرائیل پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 9 ستمبر کو دوحہ میں ہونے والا فضائی حملہ نہ صرف امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش تھی بلکہ یہ "سیاسی قتل و غارت پر مبنی سفارتکاری" کا کھلا ثبوت ہے۔
شیخ تمیم نے کہا کہ اسرائیل کے حملے میں ایک قطری شہری بھی جاں بحق ہوا اور یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ اسرائیل مذاکرات کی آڑ میں صرف اپنے سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ (اسرائیلی وفد) ہمارے ملک آتے ہیں اور سازشیں کرتے ہیں۔ دوسرے فریق سے مذاکرات کرتے ہیں اور انھی مذاکراتی ٹیموں کے اراکین کو قتل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امیر قطر نے کہا کہ اسرائیل اپنے عوام کو یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ غزہ میں قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات چاہتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ غزہ کو ناقابلِ رہائش بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی قیادت دراصل جنگ کو طول دینا چاہتی ہے تاکہ "گریٹر اسرائیل" کے تصور کو عملی جامہ پہنایا جا سکے، نئی بستیاں بسائی جا سکیں اور مقدس مقامات کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کیا جا سکے۔
امیرِ قطر شیخ تمیم نے واضح کیا کہ تمام تر مشکلات اور اسرائیلی اشتعال انگیزی کے باوجود قطر اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ امریکا اور مصر کے ساتھ مل کر غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے کام کرتا رہے گا۔
اسرائیل پر عالمی قوانین کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے امیرِ قطر کہا کہ بین الاقوامی اصول و قوانین سبھی ممالک کے لیے یکساں ہونے چاہئیں، ورنہ عالمی امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہ اسرائیل کہا کہ
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ