دوسرا چیف آف نیول اسٹاف انٹرنیشنل سیلنگ ریگاٹا آج سے شروع ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
دوسرے چیف آف نیول اسٹاف انٹرنیشنل سیلنگ ریگاٹا کے مقابلے آج سے بحیرہ عرب میں شروع ہورہے ہیں۔ پاکستان سمیت 8 ممالک کے 39 مرد اور خواتین سیلرز تین کیٹیگریزآئی ایل سی 7، آئی ایل سی 6 اور آر ایس ایکس ونڈ سرفنگ میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔
پاکستان نیوی کے تحت پاکستان سلیکنگ فیڈریشن کے تعاون سے 27 ستمبر تک کھلے سمندر میں جاری رہنے والے ان مقابلوں میں میزبان پاکستان، ملائیشیا، ایران، روس، سری لنکا، تھائی لینڈ، مصر اور ترکیہ شریک ہوں گے۔
قبل ازیں منگل کوریگاٹا کی افتتاحی تقریب پاکستان نیول اکیڈمی پرمنعقد ہوئی۔اس موقعہ پرپرچم کشائی اور مارچ پاسٹ ہوا۔
دوسری جانب میڈیا بریفنگ میں قومی سیلنگ فیڈریشن کے سیکریٹری وکمانڈر کراچی وائس ایڈمرل محمد فیصل عباسی نے ریگاٹا کے حوالے سے تفصیلات بیان کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ریگاٹا کے انعقاد سے شریک ممالک کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کے ساتھ تعلقات میں اضافہ ہوگا جبکہ خطہ کی موجودہ صورتحال میں ہونے والے بین القوامی مقابلوں سے ہماری سمندری حدود پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھنے والوں کو واضح پیغام جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔