UrduPoint:
2026-07-24@04:50:01 GMT

ٹرمپ کی مسلم قیادت سے ملاقات، میڈیا سے کوئی گفتگو نہیں

اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT

ٹرمپ کی مسلم قیادت سے ملاقات، میڈیا سے کوئی گفتگو نہیں

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 24 ستمبر 2025ء) منگل کے روز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ چنندہ عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں کا ایک خصوصی اجلاس ہوا۔ اس کی میزبانی صدر ٹرمپ اور قطر کےامیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے کی جس میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت روکنے اور حماس کے قبضے میں یرغمالیوں کی رہائی پر گفتگو کی گئی۔

نیویارک میں ہونے والی اس میٹنگ میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکی، انڈونیشیا اور پاکستان کے رہنما شریک ہوئے۔

امریکی صدر نے اس ملاقات کو اسرائیل۔حماس جنگ کے خاتمے کے لیے نہایت اہم قرار دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے میٹنگ سے قبل کہا کہ ''ہم نے یہاں 32 ملاقاتیں کیں، یہ ایک بہت اہم ہے کیونکہ ہم ایک ایسی چیز کو ختم کرنے والے ہیں جسے غالباً شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔

(جاری ہے)

‘‘

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ''ہم غزہ میں جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

ہم اسے ختم کرنے جا رہے ہیں۔ شاید ہم اسے ابھی ختم کر سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہاں اس بات کا جائزہ لینے کے لیے اکٹھے ہیں کہ کیا ہم یرغمالیوں کو واپس لا سکتے ہیں اور جنگ ختم کر سکتے ہیں۔ میٹنگ کیسی رہی؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میٹنگ کے بعد وہاں منتظر صحافیوں سے کوئی بات نہیں کی۔ وہ صرف ہاتھ ہلا کر رخصت ہو گئے۔

ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے جب ملاقات کے نتائج کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے (تھمس اپ) کا اشارہ دیا۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن، جو اسرائیل کے سخت ناقدین میں سے ہیں، نے اس اجلاس کو ''انتہائی سودمند‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا، تاہم اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے اتنے اہم وقت میں اتنی اہم ملاقات کی میزبانی پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم اس جنگ کو ختم کرنے اور غزہ کے لوگوں کی مدد کے لیے آپ کی قیادت پر بھی اعتماد کرتے ہیں۔‘‘

یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی سفارت کاری ایک نازک موڑ پر ہے، اور ٹرمپ عرب اتحادیوں کے ساتھ امریکی اثر ورسوخ استعمال کرتے ہوئے اسرائیل۔

حماس جنگ میں ایک مشکل جنگ بندی کی کوشش کر رہے ہیں۔ شہباز شریف کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے عرب-اسلامی سربراہی اجلاس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ سے غیر رسمی ملاقات کی۔

شریف کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، انہوں نے ٹرمپ سے عرب-اسلامی سربراہی اجلاس کے اختتام پر ملاقات کی جہاں دونوں نے ''غیر رسمی گفتگو‘‘ کی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی صدر سے 25 ستمبر کو ون آن ون ملاقات کا بھی امکان ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکی صدر دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور انہوں نے پاک بھارت جنگ بند کرانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

ادارت: صلاح الدین زین

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شہباز شریف انہوں نے کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل