چین میں سمندری طوفان ’ریگاسا‘ کے باعث 10 شہروں میں ہنگامی اقدامات، اسکول اور کاروبار بند
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
بیجنگ: چین نے سمندری طوفان "ریگاسا" کے خدشے کے پیش نظر 10 شہروں میں اسکولوں اور کاروباری سرگرمیوں کو فوری طور پر بند کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق طوفان کروڑوں افراد کو متاثر کر سکتا ہے، جب کہ صنعتی مرکز شینزین میں 4 لاکھ سے زائد افراد کو شہر چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایمرجنسی حکام کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں، بارش، بلند لہروں اور ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر صرف ریسکیو عملہ اور ضروری خدمات فراہم کرنے والے افراد ہی باہر نکلیں۔ باقی شہری گھروں تک محدود رہیں۔
گوانگ ڈونگ صوبے کے متاثرہ شہروں میں چاؤژو، ژوہائی، ڈونگ گوان اور فوشان بھی شامل ہیں۔ فوشان کے ایمرجنسی ہیڈکوارٹرز نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارش اور طوفانی ہوائیں شہر میں سنگین صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔
ہانگ کانگ کے موسمیاتی ادارے کے مطابق طوفان کے مرکز میں ہواؤں کی رفتار 230 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی ہے۔ ہانگ کانگ نے بھی طوفان کے پیش نظر بندش کا اعلان کر دیا ہے، جہاں زیادہ تر پروازیں جمعرات تک معطل رہیں گی اور شہری گھبراہٹ میں ضروری اشیاء ذخیرہ کر رہے ہیں۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق صوبہ گوانگ ڈونگ سے 7 لاکھ 70 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ 10 لاکھ مزید افراد کی نقل مکانی متوقع ہے۔ طوفان کے باعث 700 سے زائد پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔