سپر ٹائیفون ’رگا سا‘ نے تباہی مچاد، تائیوان میں 14 ہلاکتیں، لاکھوں افراد متاثر
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
سپر ٹائیفون رگا سا نے بدھ کے روز تائیوان اور ہانگ کانگ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
تائیوان کے مشرقی علاقے ہُوآلیئن میں ایک قدرتی بند ٹوٹنے سے پانی کی بڑی لہر بستی میں داخل ہوگئی، جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں:جلال پور پیر والا کو مزید سیلابی پانی سے بچانے کے لیے اقدامات جاری
فائربریگیڈ کے مطابق پیر سے مسلسل ہونے والی بارشوں نے صورتحال مزید سنگین بنا دی ہے۔
ہانگ کانگ میں طوفانی بارشیں اور ریکارڈ ہوائیں
ہانگ کانگ میں طوفان کے باعث 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں، جب کہ بلند لہروں نے ساحلی علاقوں کو ڈبو دیا۔
مشہور فلرٹن ہوٹل میں پانی دروازے توڑ کر اندر داخل ہوگیا اور فرش کو سیلابی منظر میں بدل دیا۔ کچھ علاقوں میں سڑکیں اور رہائشی مقامات زیرِ آب آ گئے۔
شہری زندگی مفلوج
ہانگ کانگ میں حکام نے 49 عارضی پناہ گاہیں قائم کیں جہاں اب تک 727 افراد نے پناہ لی ہے۔
سیکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئیں اور ہانگ کانگ کا اسٹاک ایکسچینج غیر متاثر رہنے کے باوجود تجارتی سرگرمیوں میں کمی دیکھی گئی۔
Cathay Pacific aircraft evacuating their Hong Kong base earlier today ahead of the arrival of Super Typhoon #Ragasa.
— Flightradar24 (@flightradar24) September 23, 2025
شہر بھر میں لوگوں نے کھڑکیوں پر ٹیپ لگاکر شیشوں کے ٹوٹنے کے خدشات کو کم کرنے کی کوشش کی۔
مکاؤ میں کیسینو بند
ہانگ کانگ کے قریب واقع مکاؤ میں بھی صورتحال سنگین ہے۔ وہاں کے حکام نے سب سے بڑا طوفانی وارننگ سگنل جاری کیا جس کے بعد کیسینو بند کر دیے گئے اور مہمانوں کو اپنی عمارتوں کے اندر ہی رہنے پر مجبور کیا گیا۔
چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ میں بڑے پیمانے پر انخلا
چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ میں، جہاں 12 کروڑ سے زائد افراد آباد ہیں، حکومت نے ہنگامی اقدامات کے تحت 7 لاکھ 70 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
اسکول، ٹرین سروس اور پروازیں معطل ہیں جبکہ ساحلی علاقوں میں طوفانی لہروں کی سرخ وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔
خطرہ بدستور برقرار
ماہرین کے مطابق رگا سا بدستور اپنی شدت برقرار رکھے ہوئے ہے اور جلد ہی گوانگ ڈونگ کے ساحلی علاقوں سے ٹکرا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ، سیلاب زدہ علاقوں میں بحالی آپریشن فوری شروع
حکام نے عوام کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب کی سطح 4 میٹر تک پہنچ سکتی ہے، جو 2017 کے طوفان ہاتو اور 2018 کے طوفان منگکھٹ کی یاد تازہ کر رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تائیوان چین رگاسا سپر ٹائیفون ہانگ کانگ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تائیوان چین رگاسا سپر ٹائیفون ہانگ کانگ ہانگ کانگ
پڑھیں:
افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA
— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا
طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔
آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سیلاب نورستان