سہراب گوٹھ ٹاؤن کے چیئرمین لالا عبدالرحیم کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائر
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(رپورٹ:منیرعقیل انصاری) ٹاؤن میونسپل کارپوریشن سہراب گوٹھ کے چیئرمین لالا عبدالرحیم پر سنگین الزامات،ٹاؤن چیئرمین نے ایک ٹھیکیدار کے4 کروڑ اور دوسرے کہ41 لاکھ روپے پڑپ کرلیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ٹاؤن میونسل کارپوریشن(ٹی ایم سی )سہراب گوٹھ کے چیئرمین اور صدر پاکستان پیپلز پارٹی پی ایس 97 سہراب گوٹھ لالا عبدالرحیم کے خلاف مقامی عدالت میں ایک شہری کی جانب سے درخواست دائر کی گئی ہے جس میں مالی ادائیگی سے انکار اور مبینہ دھمکیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق 9 اگست کو یومِ آزادی کے موقع پر ایک سرکاری تقریب کا انعقاد احسن آباد میں کیا گیا تھا جس کی تزئین و آرائش اور دیگر انتظامات کی ذمہ داری اسے سونپی گئی تھی۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس نے تقریب کیلئے مکمل ڈیکوریشن اور ساؤنڈ سسٹم فراہم کیا جس کا طے شدہ معاوضہ 41 لاکھ روپے تھا۔ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ کام مکمل کرنے کے باوجود اسے ابھی تک رقم کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ جب ٹاؤن چیئرمین لالا رحیم سے بل کی ادائیگی کا مطالبہ کرنے گیا تو نہ صرف اسے رقم دینے سے انکار کیا گیا بلکہ مبینہ طور پر دھمکیاں بھی دی گئیں۔
پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ بقایا رقم کی ادائیگی اور جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔عدالت نے ابتدائی درخواست وصول کرلی ہے اور آئندہ سماعت میں تمام فریقین سے جواب طلب کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب سہراب گوٹھ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کے چیئرمین لالا عبد الرحیم کے خلاف دیگرٹھیکیداروں نے بھی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
ٹھیکیداروں کے مطابق ٹاؤن میں مختلف ترقیاتی کام بغیر ٹینڈر اور بغیر کسی سرکاری دستاویزات کے کروائے گئے لیکن ایک سال گزر جانے کے باوجود ان کی ادائیگیاں نہیں کی گئیں، جس کے باعث وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
ایم زیڈ کنسٹرکشن کے مالک زین ملک کا کہنا ہے کہ لالا رحیم کی ہدایت پر معمار موڑ سے احسن آباد چوک تک سڑک کی تعمیر کا کام کروایا گیا تھا، جس پر تقریباً 5 کروڑ روپے کے اخراجات آئے۔ لیکن کمپنی کو صرف 1 کروڑ روپے ادا کیے گئے جبکہ باقی رقم تاحال واجب الادا ہے۔ ٹھیکیدار کا دعویٰ ہے کہ بار بار مطالبے کے باوجود چیئرمین کی جانب سے رقم کی ادائیگی نہیں کی جا رہی بلکہ برعکس طور پر سخت ردِعمل دیا جا رہا ہے۔
مزید انکشاف ہوا ہے کہ معمار گیٹ ون سے بنگالی موڑ تک تعمیر کی گئی سڑک صرف چار ماہ کے اندر ہی تباہ ہو گئی، جس سے ناقص معیار کے کام اور مبینہ کرپشن پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایک اور ٹھیکیدار نے رقم کی عدم ادائیگی پر عدالت سے رجوع بھی کر لیا ہے۔ ادائیگیوں میں تاخیر اور مبینہ بے ضابطگیوں کے انکشاف کے بعد ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کے انتظامی معاملات پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔
علاقائی سماجی حلقوں نے حکومتِ سندھ اور اینٹی کرپشن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ ٹاؤن میں جاری ترقیاتی منصوبے متاثر نہ ہوں اور سرکاری فنڈز کا ضیاع روکا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: درخواست گزار کے چیئرمین سہراب گوٹھ کی ادائیگی کے مطابق کے خلاف رقم کی کی گئی
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔