چیئرمین سینیٹ کا پی ٹی آئی ارکان کے استعفے منظورنہ کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے سینیٹرز کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دینے کے اعلان کے بعد حکومت نے اپنی حکمتِ عملی واضح کر دی ہے۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے فی الحال پی ٹی آئی سینیٹرز کے استعفے منظور نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں سینیٹ سیکرٹریٹ کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے طے کیا ہے کہ پی ٹی آئی سینیٹرز کی غیر موجودگی کے باوجود قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس معمول کے مطابق جاری رہیں گے۔ پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں پر باضابطہ منظوری تک انہیں کمیٹی چیئرمین کے طور پر تمام مراعات اور عہدے برقرار رہیں گے۔ اس دوران اپوزیشن ارکان کی عدم موجودگی میں کمیٹی اجلاسوں کی صدارت اپوزیشن کے کنونیئرز انجام دیں گے تاکہ پارلیمانی کارروائی متاثر نہ ہو۔ ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین سینیٹ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے مزید ہدایات حاصل کرنے کے بعد ہی استعفوں کے بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔ پارٹی سطح پر رہنماؤں سے براہِ راست مشاورت کے بغیر استعفے منظور کرنے کا امکان نہیں ہے۔ اس دوران حکومت نے اپنے سینیٹرز کو ہدایت جاری کی ہے کہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں اور کورم پورا کریں تاکہ اپوزیشن کی غیر موجودگی کے باوجود قانون سازی اور پالیسی امور پر کام جاری رکھا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ پی ٹی آئی
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔