نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف کی کویت کے ولی عہد آسٹریلوی چانسلر سے الگ الگ ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے نیویارک میں آسٹریا کے فیڈرل چانسلر کرسچن اسٹاکر اور کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد الحمد المبارک سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں سری لنکن صدر سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق
وزیراعظم نے آسٹریا کے چانسلر سے گفتگو کے دوران 80 کی دہائی میں اپنے دورہ آسٹریا کا ذکر کیا اور اس دور کی یادیں تازہ کیں، ملاقات کے دوران جرمن زبان میں بھی خوشگوار تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک: وزیراعظم کی ترقیاتی اقدام اجلاس میں شرکت، چینی ہم منصب اور یو این سیکریٹری جنرل سے ملاقات
کویتی ولی عہد سے ملاقات میں وزیراعظم نے پاکستان اور کویت کی دیرینہ دوستی اور شراکت داری کو اجاگر کیا اور اسے دائمی و لازوال قرار دیا۔ اس موقع پر عربی زبان میں بھی بات چیت ہوئی جس نے ملاقات کے دوستانہ ماحول کو مزید خوشگوار بنا دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آسٹریلیا شہباز شریف کویت ملاقاتیں نیویارک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلیا شہباز شریف کویت ملاقاتیں نیویارک شہباز شریف
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔