اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے فلسطینی عوام بے پناہ تکالیف سہہ رہے ہیں، کینیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
کینیا کے صدر ولیم رُتو نے غزہ میں جاری تباہ کن صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام شہریوں کو درپیش مصائب اور انسانی المیہ پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار انھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کیا۔
کینیا کے صدر نے کہا کہ غزہ میں انسانی تباہی اور عام شہریوں کی مشکلات پر سخت فکرمند ہیں جو اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے بے پناہ تکالیف سہہ رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ کینیا اسرائیلی یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتا ہے جو افریقی یونین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ہے۔
صدر رُتو نے عالمی برادری پر زور دیا کہ فوری اور مستقل جنگ بندی قائم کی جائے، بین الاقوامی انسانی قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے اور ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کا آغاز کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف انہی اقدامات کے ذریعے فلسطین کے دو ریاستی حل کے خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔