Express News:
2026-07-24@04:21:18 GMT

پیپلز پارٹی نے پنجاب کے سیلاب پر سیاست کی، مریم نواز

اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT

ڈی جی خان:

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب کے سیلاب پر سیاست کی، سندھ کا کیا حال ہے میں بات نہیں کرنا چاہتی، اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں ہم پنجاب کو سنبھال لیں گے۔

ڈی جی خان میں الیکٹرو بس مںصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ مجھے کہا جارہا ہے کہ میں کیوں دنیا کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا رہی، میں نواز شریف کی بیٹی ہوں کسی کے آگے امداد کے لیے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گی، کوئی باعزت شخص امداد مانگنے کی بات کیسے کرسکتا ہے؟ مجھے کسی امداد کی ضرورت نہیں، پنجاب کے عوام کا پیسہ پنجاب کے عوام پر ہی خرچ ہوگا۔ 

انہوں نے کہا کہ بلاول میرا چھوٹا بھائی ہے مگر انہیں کہنا چاہتی ہوں کہ پیپلز پارٹی کے ترجمانوں کو سمجھائیں، سندھ میں کیا ہورہا ہے میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتی آپ اپنے صوبے کو دیکھیں اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں ہم پنجاب کو سنبھال لیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی بات کرنے والوں کو یہاں بھی اقتدار ملا تھا، جنوبی پنجاب میں کام تو نواز شریف اور شہباز شریف نے کیا تھا، ماضی میں جنوبی پنجاب کو نعروں کے سوا کچھ نہیں ملا ہم یہاں عملی کام کررہے ہیں، جنوبی پنجاب کے صوبوں میں اسکول کے بچوں کو دودھ بھی دیا جاتا ہے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ بار بار جنوبی پنجاب کی بات کرکے لکیر کھینچنے کی کوشش کی جاتی ہے، جنوبی پنجاب کی بات کرنے والوں نے ایک دھیلے کا بھی کام نہیں کیا، جنوبی پنجاب میرے لیے اپنے بیٹے جنید کی طرح ہے، کسی کو پنجاب کے لوگوں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے نہیں دوں گی، میں جنوبی اور وسطی کی نہیں پورے ایک صوبے کی وزیراعلیٰ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی میں صرف دس ہزار کی امداد ہے جب کہ ہم دس لاکھ روپے کی مدد کرنا چاہتے ہیں، جن کا لاکھوں کا نقصان ہوگیا اس کو دس ہزار سے کیا ہوگا؟

مریم نواز نے کہا کہ ڈی جی خان ڈویژن کیلیے 101 بسیں چلیں گی، لیہ، مظفرگڑھ، راجن پور، تونسہ، کوٹ ادو میں ای بسیں چلیں گی، ماحول دوست بسوں میں خواتین، طلبہ، بزرگوں کیلیے مفت سفر ہوگا، معذور اور خصوصی افراد کیلیے بسوں میں ریمپ کی سہولت موجود ہے، خواتین کیلیے بسوں میں محفوظ اور باعزت الگ جگہ ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بارڈر ملٹری پولیس میں پہلی بار خواتین کی شمولیت سے خوشی ہوئی، تمام شہروں کو یکساں ترقی کے مواقع فراہم کیے جارہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کے کی بات

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا