آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط، مذاکرات آج شروع ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ نے سابق ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کیخلاف توہین عدالت انٹرا کورٹ اپیل کیس کے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ آرٹیکل 5کی شق دو کے تحت ہر شہری پر آئین کی پابندی لازم ہے۔
یہ سپریم کورٹ کے ریگولر بینچ کے معزز ججز (جسٹس منصو ر علی شاہ کی سربراہی میں بینچ ) کی آئینی ذمے داری تھی کہ وہ آئین پاکستان پر عمل کرتے ہوئے عدالتی کارروائی کو مزید آگے بڑھانے سے اس وقت رک جاتے جب آئین کے آرٹیکل 191اے تین اور پانچ کا حوالہ دیا گیا ۔
یہ بات طے شدہ ہے کہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کا جج اسی عدالت کے جج کے سامنے جوابدہ نہیں،جب اعلی عدلیہ کا جج اپنے جج کیخلاف رٹ جاری نہیں کر سکتا تو توہین عدالت کی کارروائی کیسے کر سکتا ہے؟
سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ جج کیخلاف کارروائی صرف سپریم جوڈیشل کونسل کر سکتی ہے۔11 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس جمال مندوخیل نے تحریر کیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا سوال یہ ہے کہ آئینی اور ریگولر کمیٹی میں شامل ججز کیخلاف توہین عدالت کاروائی ممکن ہے یا نہیں،آرٹیکل 199 کے تحت سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ ججز کو انتظامی امور میں استثنی حاصل ہے،ججز کو اندرونی اور بیرونی مداخلت سے تحفظ دیا گیا ہے۔
ایک ججز اپنی ہی عدالت کے کسی جج کیخلاف کسی قسم کی رٹ یا کاروائی نہیں کر سکتا،محمد اکرام چوہدری کیس کے فیصلے کی مطابق ججز کیخلاف کارروائی ممکن نہیں،عدلیہ جمہوری ریاست میں قانون کی حکمرانی کے محافظ کے طور پر بنیادی ستون ہے۔
یہ بات طے شدہ ہے کہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کا جج اسی عدالت کے جج کے سامنے جوابدہ نہیں،جب اعلی عدلیہ کا جج اپنے جج کیخلاف رٹ جاری نہیں کر سکتا تو توہین عدالت کی کارروائی کیسے کر سکتا ہے،سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ جج کیخلاف کارروائی صرف سپریم جوڈیشل کونسل کر سکتی ہے۔
آرٹیکل 209 جوڈیشل کونسل کے علاوہ کسی اور فورم پر جج کیخلاف کاروائی پر قدغن لگاتا ہے، توہین عدالت قانون بنانے کا پارلیمنٹ کا یہ مقصد نہیں تھا کہ ایک جج دوسرے جج کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ ججز اپنے ساتھی ججز کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کر سکتے اور نہ ہی سزا دے سکتے ہیں۔
اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان اپنے دائرے میں مساوی حیثیت اور اختیار رکھتے ہیں،اعلیٰ عدلیہ کا کوئی جج دوسرے پر برتر یا کم تر حیثیت نہیں رکھتا کہ وہ ہدایت جاری کرے یا سزا دے سکے، اگر سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کو اپنے ہی ساتھی جج کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی اجازت دی جائے تو یہ ان کے درمیان باہمی احترام اور یکجہتی کو نقصان پہنچائے گا۔
اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم رکھنا عدالتوں کے ہموار کام کے لیے ضروری ہے، کسی جج کا اپنے ساتھی جج کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرنا اندرونی اختلافات، شکایات اور کدورتیں پیدا کرے گا، اس سے انارکی پھیلے گی اور نظامِ عدل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گا۔
پاکستانی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس عدالت نے ”جسٹس (ر) افتخار حسین چوہدری و دیگر“ کیس میں سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس کے ان جج صاحبان کو توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کیے جنہوں نے 3 نومبر 2007 کے حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پی سی او کا حلف اٹھایا۔
جولائی 2009 کے فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ غیرآئینی پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کے بعد وہ صاحبان جج ہی نہیں رہے تھے۔ یہ اصول طے شدہ ہے کہ جزوی طور پر سنے گئے مقدمات کو کسی انتظامی حکم کے ذریعے منتقل نہیں کیا جا سکتا تاہم اگر کسی مقدمے کی سماعت کے دوران آئین یا قانون میں ترمیم یا نئی قانون سازی کے ذریعے عدالت کا دائرہ اختیار ختم کر دیا جائے تو وہ عدالت مزید کارروائی کی مجاز نہیں رہتی۔
کسی جج یا بینچ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ دفتر یا کسی کمیٹی کو یہ ہدایت دے کہ کوئی مخصوص مقدمہ اس کے سامنے مقرر کیا جائے جبکہ وہ مقدمہ اس کے دائرہ اختیار میں نہ ہو یا رول کے مطابق اس کے سامنے مقرر نہ کیا گیا ہو، جج صاحبان اپنے حلف، ججوں کے ضابطہ اخلاق، قانون اور قواعد کے پابند ہیں، اگر ہر جج اپنی مرضی کے مقدمے سننے لگے تو عدالت کا نظم و ضبط متاثر اور عوام کا اعتماد مجروح ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: توہین عدالت کی کارروائی سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کیخلاف توہین عدالت کارروائی کی جج کیخلاف عدالت کے کے سامنے کر سکتا ا رٹیکل نہیں کر
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم