وزیراعظم سے بل گیٹس کی ملاقات: صحت اورڈیجیٹل شعبوں مل کر کام کرنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف سے نیویارک میں گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس نے ملاقات کی اور صحت و ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم شہبازشریف نے پاکستان میں حالیہ 2025 کے سیلاب کے لیے گیٹس فاؤنڈیشن کے فراخ دلانہ عطیے پر اظہارِ تشکر کیا، اور 2022 کے سیلاب کے دوران فاؤنڈیشن کی نمایاں امدادی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔جبکہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے، حفاظتی ٹیکہ جات اور غذائیت میں بہتری، نیز مالی شمولیت کے لیے گیٹس فاؤنڈیشن کی قیمتی معاونت کو سراہا۔
انہوں نے معاشی اصلاحات، کیش لیس ڈیجیٹائزیشن اور معیشت کی بحالی کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے گیٹس فاؤنڈیشن کے عملی، مثبت اور قیمتی تعاون کا خاص طور پر اعتراف کیا۔
وزیراعظم اور بل گیٹس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحت، غذائیت، ڈیجیٹل تبدیلی اور ملک کی وسیع تر سماجی و اقتصادی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے مل کر کام جاری رکھا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔