بھارت نے شیخ حسینہ کی میزبانی کرکے بنگلہ دیش سے تعلقات خراب کیے، محمد یونس
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس کا کہنا ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان کشیدگی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت نے حسینہ شیخ کو میزبانی فراہم کی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انتخابات فروری میں، آزادانہ اور شفاف ہوں گے، ڈاکٹر محمد یونس
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقعے پر انہوں نے کہا کہ بھارت اس بات سے ناخوش ہے کہ بنگلہ دیش میں طلبا نے احتجاج کیا جس کی وجہ سے شیخ حسینہ کی حکومت کو برطرف کیا گیا۔
ڈاکٹر محمد یونس نے کہا کہ شیخ حسینہ نے اپنے دور اقتدار میں نوجوانوں کو قتل کروایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی میڈیا جعلی خبریں پھیلا رہا ہے اور ان پر طالبان ہونے کے الزامات لگا رہا ہے۔
مزید پڑھیے: اسحاق ڈار، بیگم خالدہ ضیا اور ڈاکٹر محمد یونس کے درمیان کیا باتیں ہوئیں؟
تاہم ڈاکٹر یونس نے کہا کہ سارک ممالک کی تنظیم سارک کو ایک قریبی خاندانی روابط کا پلیٹ فارم ہونا چاہیے بجائے اس کے کہ سیاسی تنازعات کی بنیاد بنے۔
مزید پڑھیں: حسینہ واجدمودی کی کٹھ پتلی، دونوں کی ملی بھگت خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، محمد یونس
انہوں نے کہا کہ بھارت اگر چاہے تو وہ سارک کے اصولوں کے تحت سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون قائم کرے اور سیاسی مداخلت سے گریز کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بھارت سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد محمد یونس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بھارت سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد محمد یونس ڈاکٹر محمد یونس بنگلہ دیش نے کہا کہ کہ بھارت
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔