پنجاب بھر میں وائلڈ لائف کی کارروائیاں، غیرقانونی شکار پر بھاری جرمانے
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
لاہور:
محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے جنگلی جانوروں اور پرندوں کے غیرقانونی شکار کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔
مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران بٹیر سمیت دیگر جنگلی پرندوں کے غیرقانونی شکار میں ملوث 9 ملزمان کو چالان جبکہ متعدد کو بھاری جرمانے کیے گئے۔ کارروائیوں میں مجموعی طور پر بٹیر کے 15 نیٹنگ گیئرز بھی ضبط کیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر ساہیوال ریجن راجہ احسان کی سربراہی میں وائلڈ لائف رینجرز اوکاڑہ نے بٹیر کے دو غیرقانونی شکاریوں کے خلاف ایف آئی آرز درج کرائیں۔
اسی طرح اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر شاہزیب خورشید نے تیتر کا کتوں اور گن کے ساتھ غیرقانونی شکار پر تین شکاریوں کو مجموعی طور پر 70 ہزار روپے جرمانہ کیا۔
چنیوٹ میں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر اویس کسانہ نے کارروائی کے دوران بٹیر کے چار نیٹنگ گیئرز ضبط کر کے تین چالان کیے اور 55 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ اسی طرح جھنگ میں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر عبداللہ بلال نے دو نیٹنگ گیئرز ضبط کیے، دو چالان کیے اور ایک کیس میں 30 ہزار روپے جرمانہ کیا۔
ملتان ریجن میں ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر ڈاکٹر سجاد حسین کی سربراہی میں ٹیم نے بٹیر کے 13 نیٹنگ گیئرز ضبط کیے، تین ملزمان کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی شروع کی اور ایک ایف آئی آر بھی درج کرائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: غیرقانونی شکار نیٹنگ گیئرز بٹیر کے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔