آئی ٹی سی این ایشیا 2025ء؛ پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے دور کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقدہ آئی ٹی سی این ایشیا 2025ء کی 3 روزہ نمائش کا اختتام ہوگیا، جس کے نتیجے میں پہلے سے ترقی کی شاہراہ پر گامزن آئی ٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔
برطانیہ، ترکیہ، آذربائیجان، سعودی عرب، چین اور امریکا سمیت مختلف ممالک نے نمائش میں بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے مختلف ممالک سے اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
نمائش میں 800 سے زائد کمپنیوں اور 300 بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی شمولیت نے ایونٹ کو کامیاب بنایا۔ آئی ٹی سی این ایشیا میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی ایس آئی ایف سی کی کاوشوں کا اعتراف ہے، جہاں شرکا نے ایس آئی ایف سی کے اقدامات کو پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کا ضامن قرار دیا ہے۔
شرکا کے مطابق ایس آئی ایف سی نے نوجوان نسل کو آئی ٹی کے شعبے میں مواقع دے کر ترقی کی امنگ پیدا کر دی ہے۔ ان اقدامات سے عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان کی آئی ٹی پالیسی پر اعتماد بڑھ گیا ہے۔ ایس آئی ایف سی کے تعاون سے آئی ٹی سی این ایشیا نے ملکی آئی ٹی سیکٹر کو عالمی شناخت دلائی ہے۔
آئی ٹی سی این ایشیا میں وسیع تجارتی تعلقات اور شراکت داری سے ملکی معیشت میں خاطرخواہ اضافہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی ٹی سی این ایشیا ایس آئی ایف سی
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔