لبنان، شہید مقاومت کی پہلی برسی کے منتظمین کی گرفتاری کا حکم جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
اپنے ایک ٹویٹ میں لبنانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بغیر سرکاری اجازت کے بیروت کے ساحل پر واقع "الروشہ" چٹان پر سید حسن نصر الله اور سید ہاشم صفی الدین کی تصاویر روشن کرنا غیر قانونی و عوامی مقامات کے استعمال کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ شب لبنان کے وزیر اعظم "نواف سلام" نے سماجی رابطے كی سائٹ ایکس پر ایک ٹویٹ پوسٹ کی جس میں انہوں نے شہید مقاومت سید حسن نصر الله کے خلاف اپنے کینے کو ظاہر کیا۔ ٹویٹ میں نواف سلام نے لکھا کہ بغیر سرکاری اجازت بیروت کے ساحل پر واقع "الروشہ" چٹان پر سید حسن نصر الله اور سید ہاشم صفی الدین کی تصاویر روشن کرنا غیر قانونی اور عوامی مقامات کے استعمال کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے ملک کے وزیر داخلہ، وزیر انصاف اور وزیر دفاع سے مطالبہ کیا کہ وہ اس خلاف ورزی کے ذمہ داروں کی شناخت کریں، انہیں گرفتار کریں اور قانونی کارروائی کا نشانہ بنائیں۔
واضح رہے کہ حزب الله کے حامیوں نے گزشتہ روز بیروت میں الروشہ چٹان کے پاس اکٹھے ہو کر سید حسن نصر الله کی شہادت کی پہلی برسی منائی۔ اس موقع پر شرکاء نے حزب الله اور لبنان کے جھنڈوں کے ساتھ ساتھ سید حسن نصر الله و سید ہاشم صفی الدین کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ اس تقریب میں شہداء كو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ترانہ شہادت پڑھے گئے۔ کچھ لوگ سمندر کے راستے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے مذکورہ مقام پر پہنچے۔ غروب آفتاب کے بعد، الروشہ چٹان کو سید حسن نصر الله اور ہاشم صفی الدین کی تصاویر سے روشن کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید حسن نصر الله الله اور
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔