قدرتی آفات اور بحرانوں پر سیاست کرنا ایک گری ہوئی حرکت ہے، وزیر اطلاعات شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کسانوں کو سہولت دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کیونکہ فوڈ سیکیورٹی کا تعلق براہِ راست کسان اور کاشتکاری سے جڑا ہوا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو بھی چاہیے کہ آئی ایم ایف سے سبسڈی کے لیے بات کرے تاکہ کسان کو براہِ راست ریلیف مل سکے.
’قدرتی آفات اور بحرانوں پر سیاست کرنا ایک گری ہوئی حرکت ہے، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کے مسائل پر سنجیدگی سے بات کی ہے اور آئندہ بھی کرے گی۔‘
یہ بھی پڑھیں: ’وفاقی حکومت جواب دے‘، بلاول بھٹو کا ایک بار پھر بینظیر انکم سپورٹ کے تحت سیلاب زدگان کی مدد پر زور
شرجیل انعام میمن کے مطابق سندھ حکومت کسانوں کے لیے 55 ارب روپے سے زائد کے ریلیف پیکیج کا اعلان کر چکی ہے جس سے 4 لاکھ سے زائد کسان مستفید ہوں گے اور تقریباً 22 لاکھ ایکڑ زمین زیر کاشت لائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو نے گزشتہ روز ایک انقلابی کسان دوست پالیسی کا اعلان کیا، جس پر سندھ حکومت فوری عمل درآمد کر رہی ہے۔
’یہ سہولت صرف کسانوں تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کے عوام کے لیے ہے، کیونکہ ہر گھر میں روٹی کھائی جاتی ہے اور اگر کسان مضبوط ہوگا تو پوری قوم مضبوط ہوگی۔‘
مزید پڑھیں: عظمیٰ بخاری کی شرجیل میمن پر تنقید، بلاول اور یوسف رضا گیلانی کو معتبر قرار دے دیا
انہوں نے وضاحت کی کہ چھوٹے کسانوں کو براہِ راست سہولت پہنچانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، 25 ایکڑ یا اس سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کو بیگز فراہم کیے جائیں گے۔
کھاد اور یوریا کی بوریوں پر ’ناٹ فار سیل‘ درج ہوگا تاکہ کوئی ان کا غلط استعمال نہ کر سکے۔
’اگر کوئی کسان یا فرد اس سہولت کو بیچنے یا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا تو اسے 5 سال تک کسی بھی سرکاری سبسڈی یا مراعات سے محروم کر دیا جائے گا۔‘
مزید پڑھیں: بینظر انکم سپورٹ تنازعہ: شازیہ مری کا مریم نواز اور عظمیٰ بخاری کو جواب
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ بدعنوانی اور بدنیتی کے خلاف بھی سخت کارروائی ہوگی، کسی سرکاری افسر کی جانب سے بدنیتی سامنے آئی تو اس کے خلاف بھی ایکشن ہوگا۔
’اس مقصد کے لیے ایک آن لائن شکایت کا نظام بھی بنایا جا رہا ہے تاکہ کسان براہِ راست اپنی شکایات درج کرا سکیں۔‘
شرجیل میمن نے کہا کہ ماضی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، پرویز مشرف کے دور میں پاکستان کو گندم درآمد کرنا پڑتی تھی لیکن صدر آصف علی زرداری کی پالیسیوں کی بدولت پاکستان گندم برآمد کرنے والا ملک بن گیا تھا۔
’اگر ہم آج کسان کو سہولت نہ دیں تو کل دوبارہ درآمد کی ضرورت پیش آئے گی جس سے قیمتی زرمبادلہ ضائع ہوگا۔‘
مزید پڑھیں:سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال نہ کرنا غفلت ہوگی، آصفہ بھٹو
اپنی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت خواتین کے لیے سہولتوں پر بھی توجہ دے رہی ہے، اسی مقصد کے لیے “پنک اسکوٹی اسکیم” اور گھروں کی تعمیر کے منصوبے بھی جاری ہیں۔ ان کے مطابق، 21 لاکھ گھروں کی تعمیر ہو رہی ہے جو دنیا دیکھ رہی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی پنجاب کے عوام کو بھی اپنے بھائی اور بہن سمجھتی ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
’سیاست میں جملے ہمیں سوچ سمجھ کر ادا کرنے چاہییں، ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کسان اور عام عوام کی سہولت ہی اصل ترجیح ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سندھ شرجیل انعام میمن وزیر اطلاعات
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شرجیل انعام میمن وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ کہ کسان کے لیے رہی ہے
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔