عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کے باعث رواں ماہ کے دوران 4 بڑے طبی مراکز بند ہو گئے جس کے بعد غزہ میں فعال اسپتالوں کی تعداد صرف 14 رہ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’غزہ ہم آرہے ہیں‘، گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملوں کے بعد سینیٹر مشتاق کا ویڈیو پیغام

غزہ شہر میں اسرائیلی عسکری کارروائیوں میں شدت کے باعث طبی عملے پر دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس تناظر میں ڈبلیو ایچ او بھی شدید تشویش کا شکار ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ترجمان طارق جسارویچ نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی آبادی کو بار بار انخلا کے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں جس سے طبی مراکز بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعض اسپتالوں کو براہ راست انخلا کا حکم نہیں دیا جاتا لیکن جاری حملوں کی وجہ سے وہاں تک رسائی مشکل ہو چکی ہے۔

حالیہ بند ہونے والے طبی مراکز میں الرنتیسی چلڈرن ہسپتال، اوپتھلمک اسپتال، سینٹ جان آئی اسپتال اور حماد اسپتال برائے بحالی و مصنوعی اعضا شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی علاقے کے اسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ غزہ شہر میں 8 جبکہ دیرالبلح اور خان یونس میں 3،3 اسپتال موجود ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی مکمل طور پر فعال نہیں ہے۔

مزید پڑھیے: غزہ امدادی فلوٹیلا پر ڈرون حملے، دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں

اسرائیلی حملوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں زخمیوں کو غزہ کے اسپتالوں میں لایا جا رہا ہے جہاں طبی سہولیات اور ضروری سامان کی شدید کمی ہے۔

حماد اسپتال غزہ کے 3 بڑے جسمانی معذور افراد کے بحالی مراکز میں سے ایک ہے اور یہاں تقریباً 250 مریضوں کو بحالی کی خدمات فراہم کی جا رہی تھیں۔ اس کے علاوہ شمالی غزہ میں زخمیوں کو بھی طبی امداد دی جا رہی تھی۔

اسپتالوں پر تباہ کن حملے

16 ستمبر کو الرنتیسی اسپتال پر ایک براہ راست حملہ ہوا جس سے اسے شدید نقصان پہنچا جبکہ وہاں 80 مریض موجود تھے۔

یہ غزہ کا واحد خصوصی بچوں کا اسپتال ہے۔ اس حملے میں کسی ہلاکت کی اطلاع تو نہیں ملی لیکن اسپتال کی چھت پر موجود پانی کے ٹینک، مواصلاتی نظام اور طبی آلات کو شدید نقصان پہنچا۔

حملے کے بعد اسپتال کے نصف مریضوں نے اسے چھوڑ دیا مگر تقریباً 40 مریض اب بھی وہاں موجود ہیں جن میں 4 بچے آئی سی یو میں زیر علاج ہیں جبکہ 8 نومولود بھی شامل ہیں۔

اسپتال کا زیادہ تر طبی سامان دوسرے غزہ کے اسپتالوں کو منتقل کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: غزہ جانے والے امدادی بیڑے کو ناکہ بندی توڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اسرائیل

ڈبلیو ایچ او نے خون کے یونٹس، بیگز اور ٹرانسفیوژن کے سامان کی شدید قلت کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اس کی فراہمی بحال نہ کی گئی تو یہ خدمات چند روز میں معطل ہو سکتی ہیں۔

طبی سامان کی شدید قلت اور مریضوں کی مشکلات

ترجمان طارق جسارویچ نے کہا ہے کہ غزہ کے لوگ مسلسل نقل مکانی پر مجبور ہیں اور طبی سامان کی شدید کمی کے باعث امدادی کارکنوں اور مریضوں دونوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے ہزاروں شدید بیمار مریضوں کے فوری انخلا کی اپیل دہرائی اور کہا کہ انہیں غزہ سے باہر خصوصی نگہداشت کی فوری ضرورت ہے۔ اس وقت 15 ہزار سے زائد لوگ طبی وجوہات کی بنا پر انخلا کے منتظر ہیں، لیکن انہیں علاقے سے باہر منتقل کرنے کا عمل بہت سست روی کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھیے: غزہ میں اسرائیلی جارحیت جاری، الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کے خاندان سمیت 91 فلسطینی شہید

طارق جسارویچ نے جنگ بندی کے قیام اور انسانی امداد تک بلا روک ٹوک رسائی کی فوری فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ باقی ماندہ صحت کے نظام کو طبی سازوسامان، ہنگامی طبی ٹیموں اور دیگر اہم وسائل فراہم کر کے سہارا دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل کے غزہ پر حملے اسرائیلی بربریت غزہ غزہ اسپتال غزہ میں اسپتال بند.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل کے غزہ پر حملے اسرائیلی بربریت غزہ اسپتال غزہ میں اسپتال بند سامان کی شدید ڈبلیو ایچ او کے باعث کہا کہ غزہ کے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق