کراچی: کانگو وائرس سے ایک اور شہری جاں بحق، رواں سال اموات کی تعداد تین ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: سندھ میں کانگو وائرس نے ایک اور جان لے لی، رواں سال اس وائرس کے نتیجے میں صوبے میں اموات کی تعداد 3 ہو گئی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر میں کانگو وائرس سے ایک اور موت واقع ہوگئی ہے۔ 28 سالہ زبیر، جو لانڈھی کا رہائشی اور پیشے کے اعتبار سے قصاب تھا، جناح اسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد جان کی بازی ہار گیا۔
رپورٹ کے مطابق اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ مریض کو دو روز قبل تیز بخار اور پیٹ میں شدید تکالیف کے باعث اسپتال لایا گیا تھا، جہاں آج صبح اس میں کانگو وائرس کی باضابطہ تصدیق ہوئی۔
اس سے قبل جون 2025 میں شہر میں دو شہری کانگو وائرس کے باعث انتقال کرچکے تھے۔ 16 جون کو ملیر کے رہائشی 42 سالہ عبدالرؤف کا انتقال ہوا، جبکہ دو دن بعد 19 جون کو ابراہیم حیدری کا 22 سالہ نوجوان زبیر لکھیو بھی اس مہلک وائرس کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس طرح صوبے میں رواں برس اب تک اس خطرناک وائرس سے تین افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جولائی 2025 میں بھی 33 سالہ ایک مریض میں کانگو وائرس کی تشخیص کی گئی تھی، تاہم وہ بروقت علاج سے صحتیاب ہوگیا تھا۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کانگو وائرس نہ صرف جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے بلکہ یہ متاثرہ مریض کے خون یا جسمانی رطوبات سے قریبی رابطے کے ذریعے انسان سے انسان تک بھی پھیل سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس مرض کی علامات اچانک ظاہر ہوتی ہیں جن میں بخار، پٹھوں اور کمر کا درد، چکر آنا، گردن کی اکڑن، سر درد، آنکھوں میں جلن اور روشنی سے حساسیت شامل ہیں۔
شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ عیدالاضحی کے بعد خصوصاً جانوروں کے ساتھ کام کرنے والے افراد خصوصی احتیاط برتیں اور کسی بھی مشتبہ علامت کی صورت میں فوری طور پر اسپتال سے رجوع کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں کانگو وائرس کے مطابق
پڑھیں:
ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
کراچی:صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا افضل پیچوہو نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے۔
جناح اسپتال کراچی میں چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی کی بروقت تشخیص کیلئےاسکریننگ کا عمل مزید تیز کردیا گیا ہے، زیادہ سے زیادہ اسکریننگ سے ایچ آئی وی پر جلد قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں سہولیات کی بہتری کے لیے حکومت سندھ بھرپور کوششیں کر رہی ہے، ہمیں معلوم ہے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے، صحت کے شعبے میں حال ہی میں نئی بھرتیاں کی گئی ہیں، مزید بھرتیوں کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں، اسپتالوں میں سہولیات کی بہتری کے لیے مزید بھرتیوں سے مدد ملے گی۔
صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ اسپتالوں میں میڈیا کی موجودگی کی اجازت نہیں ہوتی، میڈیا سے بات کرنے کے خواہشمند ڈاکٹر اور دیگر افراد اسپتال سے باہر آکر موقف دیں، تمام ڈاکٹرز کو میڈیا سے بات کرنے اور اپنا مؤقف دینے کی اجازت ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا اسپتال میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرے، میڈیا کی نشاندہی سے ہی ہمیں مدد ملتی ہے، جناح اسپتال میں ڈاکٹر خالد شیر کو کہہ دیا ہے اب سے وہ میڈیا کو موقف دیں گے۔