اسرائیل سے تعلقات پر نظرثانی کریں اور اس کا احتساب کریں؛ آئرش وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
آئرش وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مطالبہ کیا کہ غزہ پر جارحیت کو دیکھتے ہوئے دوست ممالک اب اسرائیل کی حمایت پر نظرثانی کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آئرلینڈ کے وزیراعظم مائیکل مارٹن نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کو انسانی وقار پر حملہ قرار دیا۔
انھوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ غزہ کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اسرائیل کے دوست ممالک غزہ جنگ میں اپنی حمایت پر سنجیدگی سے نظرثانی کریں اور فوری طور پر جنگ بندی کو یقینی بنائے۔
مائیکل مارٹن نے کہا کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو بھی سوچنا ہوگا کہ وہ مزید کیا کر سکتے ہیں۔ میں بالخصوص ان ممالک کو مخاطب کرتا ہوں جن کا اسرائیل پر اثر و رسوخ ہے کہ وہ فوری طور پر اس کا استعمال کریں۔
انھوں نے واضح کیا کہ جو ریاستیں اسرائیل کو فوجی امداد فراہم کر رہی ہیں، انہیں اپنے اقدامات کے نتائج اور فلسطینی عوام پر اس کے تباہ کن اثرات پر غور کرنا چاہیے۔
آئرش وزیراعظم نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ معصوم بچے بھوک سے مر رہے ہیں جبکہ امدادی سامان سرحد پر سڑ رہا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ لوگ اپنے خاندان کے لیے کھانے کی تلاش میں نکلتے ہیں تو گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اسکول، اسپتال، مساجد اور ثقافتی ادارے جان بوجھ کر تباہ کیے جا رہے ہیں۔"
مائیکل مارٹن نے اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی انکوائری کمیشن کی اس رپورٹ کی یاد دہانی کرائی جس میں غزہ کی جنگ کو نسل کشی قرار دیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ عالمی برادری کے لیے اب خاموش رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔
آئرش کے وزیراعظم نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ فوری جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کارکنوں کو مکمل رسائی دی جائے۔
آئرش وزیراعظم نے اسرائیل کو غزہ جنگ پر جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ بغیر کسی احتساب کے نہیں چل سکتی، اس کے ذمہ داروں کو جواب دینا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔