وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے جو لوگ گولی کی زباں سمجھتے ہیں انہیں گولی سے ہی جواب ملے گا۔

فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہشتگردوں کے خلاف ناقابلِ تسخیر عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ گولی چلاتے ہیں، انہیں گولی کا ہی جواب دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین دہشتگردوں کو بھتہ دے کر صوبے میں رہ رہے ہیں، طلال چوہدری

انہوں نے 2014 کے پشاور آرمی پبلک اسکول پر حملے میں شہید ہونے والے معصوم بچوں، بازاروں اور عوامی جگہوں پر دھماکوں سے شہید ہونے والے عام شہریوں، اور میجر عدنان شہید جیسے بہادر فوجی افسروں کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے ریاست کوئی کسر نہ چھوڑے گی اور دہشت گردوں کو اسی طرح ختم کیا جائے گا جیسے وہ ختم ہونے کے لائق ہیں۔

طلال چوہدری نے ضلع کرم میں جاری انٹیلی جنس بیسڈ فوجی آپریشن کی تفصیلات بیان کیں، ان کا کہنا تھا کہ 26 ستمبر 2025 کو شروع ہونے والے اس آپریشن میں اب تک 17 خوارج (دہشت گرد) کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ آپریشن کرم کے تھانہ شاہ سلیم کے علاقے درشہ خیل میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ملا نذیر گروپ سے وابستہ دہشتگردوں کے خلاف خفیہ اطلاع پر آپریشن شروع کیا گیا، جہاں کئی گھنٹوں کی شدید جھڑپوں کے نتیجے میں 17 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: دہشتگرد گروپس افغانستان سے آپریٹ ہورہے ہیں، طلال چوہدری

طلال چوہدری نے واضح کیا کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف کوئی نرمی یا بات چیت نہیں برتی جائے گی، اور نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کے تحت مزید آپریشنز تیز کی جائیں گے۔

انہوں نے سرحد پار سے دراندازیوں، فرقہ وارانہ جھڑپوں اور علاقائی عدم استحکام کو روکنے کے لیے حکومتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کا اعلان کیا۔

انہوں نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، پاکستان کا مستقبل محفوظ ہوگا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کیا قدامات کیے،وہاں اُن کی 13 سال سے حکومت ہے، جو ہمارے سپاہیوں اور بچوں کو شہید کررہے ہیں کیا اُن سے بات کریں؟ فوجی افسران ملک کو محفوظ رکھنے کیلئے شہید ہورہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 9 مئی واقعات پی ٹی آئی کی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تھے، طلال چوہدری

وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ تحریک انصاف کے دور میں دوست ممالک سے سفارتی تعلقات خراب ہوئے، سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کے ثمرات جلد نظر آئیں گے، آج معیشت درست سمت پر گامزن ہے ۔

انہوں نے مزید کہا  کہ ابہام پید اکرکے اپنی ذمہ داریوں سے نہ بھاگیں، افغانستان سے بات چیت کررہے ہیں لیکن مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلا، گولی کی زبان سمجھنے والوں کو گولی کی ہی زبان سمجھائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پاکستان خیبرپختونخوا ضلع کرم طلال چوہدری فیصل آباد وزیرمملکت داخلہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان خیبرپختونخوا طلال چوہدری فیصل ا باد وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری انہوں نے گولی کی کہا کہ

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے