Jang News:
2026-06-03@07:36:25 GMT

معلومات تک رسائی جمہوری حق ہے: وزیراعظم

اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT

معلومات تک رسائی جمہوری حق ہے: وزیراعظم

فائل فوٹو

وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی یومِ رسائی برائے معلومات پر پیغام میں کہا ہے کہ معلومات تک رسائی ایک جمہوری حق ہے جو شفافیت، جواب دہی اور عوامی خود مختاری کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

ایک بیان میں شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت ہر شہری کے اس بنیادی حق کو تسلیم کرتی ہے کہ وہ معلومات تلاش اور حاصل کرے اور ان کی ترسیل کرے، آج کے دور میں معلومات کے آزادانہ بہاؤ سے اچھی حکمرانی کو تقویت ملتی ہے، سماجی شمولیت کو فروغ ملتا ہے اور ریاست و عوام کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے۔

 انہوں نے زور دیا کہ باخبر معاشرے ہی امن، انصاف اور پائیدار ترقی کی جانب بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

شہباز شریف نے بتایا کہ حکومت نے قانون سازی اور اصلاحات کے ذریعے معلومات کے حق کی ضمانت کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں اور یہ عزم برقرار ہے کہ ہر شہری کو مساوی طور پر معلومات تک رسائی حاصل ہو، پُرعزم ہیں کہ خواتین اور نوجوان ڈیجیٹل دور میں معلومات تک مساوی رسائی حاصل کرسکیں۔

جینیوا میں نواز شریف کی عیادت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف لندن پہنچ گئے

وزیراعظم نے نواز شریف کو امریکا کے دورے اور ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سے متعلق آگاہ بھی کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن معلومات تک رسائی فراہم کرنے اور شکایات کے ازالے کے لیے متحرک ہے جبکہ عوامی ریکارڈ کو محفوظ اور قابلِ رسائی بنانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کا عمل جاری ہے۔

وزیراعظم نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کے لیے تعاون کریں جو زیادہ کھلا، شفاف اور علم پر مبنی ہو، ایسا معاشرہ ہی عوام کو بااختیار بنا کر جمہوریت کو مضبوط کرے گا اور ترقی و خوشحالی کے سفر کو تیز کرے گا۔

انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت سب کے فائدے کے لیے معلومات تک رسائی کے حق کے فروغ اور تحفظ کے لیے اپنے اقدامات جاری رکھے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: معلومات تک رسائی شہباز شریف کے لیے

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا

فیفا ورلڈکپ 2026 نے باضابطہ طور پر تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جہاں پہلی بار 48 ٹیمیں اور مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی میدان میں اتریں گے۔

12 جون سے شروع ہونے والا یہ میگا ایونٹ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا جو ورلڈکپ کی تاریخ میں پہلی بار تین ممالک میں منعقد ہو رہا ہے۔

اس بار ٹورنامنٹ کا فارمیٹ بھی پہلے سے بالکل مختلف ہے جہاں 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ہوں گی۔

مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے جس سے ایونٹ مزید طویل اور سنسنی خیز ہونے کی توقع ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس ورلڈکپ میں شامل 1248 کھلاڑیوں میں سے 357 ایسے ہیں جو پہلے بھی عالمی کپ کھیل چکے ہیں جبکہ 891 کھلاڑی پہلی بار اس بڑے اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔

مزید پڑھیں

فیفا ورلڈکپ 2026 میں کیا نئی چیزیں متعارف ہوں گی؟

فیفا ورلڈکپ: میسی مسلسل چھٹے ورلڈکپ میں ارجنٹینا کی نمائندگی کیلیے تیار

فٹبال کے بڑے نام ایک بار پھر ایکشن میں ہوں گے جن میں لیونل میسی، کرسٹیانو رونالڈو اور گیلرمو اوچوا شامل ہیں جو چھٹی مرتبہ ورلڈکپ کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار چار نئے ممالک کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار ورلڈکپ کا حصہ بن رہے ہیں جس سے مقابلہ مزید غیر متوقع ہو گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس ایونٹ میں سب سے کم عمر کھلاڑی صرف 17 سال کا ہوگا جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کی عمر میں میدان میں اترے گا۔

مجموعی اسکواڈ میں 7 کھلاڑی 40 سال سے زائد عمر کے ہیں جبکہ 22 انڈر 20 پلیئرز بھی اپنی ٹیموں کی نمائندگی کریں گے۔

فیفا ورلڈکپ 2026 نہ صرف تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑا ایونٹ بن چکا ہے بلکہ یہ فٹبال کی تاریخ میں ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم
  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ