پاکستان نے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو امن کے لیے نادر موقع قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
فائل فوٹو
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو امن کے لیے نادر موقع قرار دیدیا۔
مشرقِ وسطیٰ سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ اگرچہ غزہ میں امن کے امکانات تیزی سے معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، مگر اسی دوران نئی سفارتی راہیں بھی کھل رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مشاورتی عمل میں فعال طور پر شریک رہے گا۔
ساتھ ہی پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ اسرائیل کا ای- ون بستی منصوبہ دو ریاستی حل پر براہِ راست حملہ ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ مشرقی یروشلم کو فلسطین سے کاٹنے اور مغربی کنارے کی جغرافیائی وحدت کو ختم کرنے کی یہ کوشش صریحاً بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ غزہ جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ 21 نکات کی تفصیل سامنے آگئی ہے۔
ان نکات میں معاہدہ ہونے کے بعد 48 گھنٹوں میں غزہ سے یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔