data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ بیس نکاتی امن منصوبے کے تناظر میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے حالیہ بیانات نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو نئی شکل دے دی ہے بلکہ فلسطینی عوام کے لیے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق نیتن یاہو نے باضابطہ طور پر دھمکی دی ہے کہ اگر حماس منصوبے کو قبول نہ کرے تو اسرائیل اکیلے ہی غزہ میں کارروائی مکمل کر کے اسے ختم کر دے گا ۔

نیتن یاہو نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں محدود انخلا اور 72 گھنٹوں میں یرغمالیوں کی رہائی ہوگی، جبکہ اس کے بعد بین الاقوامی ادارہ حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ کو غیر فوجی زون بنانے کی ذمہ داری سنبھالے گا۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس منصوبے میں سب سے بڑا خلا یہ ہے کہ فلسطینی خود ارادیت، آزاد ریاست اور ان کے حقوق کو کسی جامع اور ناقابلِ واپسی سیاسی عمل کی بجائے وقتی انتظامی ڈھانچوں میں محدود کیا جا رہا ہے۔

دریں اثنا صہیونی وزیراعظم نے ہرزہ سرائی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکمل فوجی انخلا تاحال قبول نہیں۔ سیکورٹی کنٹرول اسرائیل ہی کے ہاتھ میں رہے گا ۔ مبصرین کے مطابق یہ پالیسی درحقیقت غزہ کی خودمختاری کے نقطے کو نظرانداز کررہی ہے۔

خطے پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پلان اس لیے تشویش ناک ہے کہ اس میں فلسطینیوں کی سیاسی ملکیت اور حقِ خودارادیت کے بجائے بیرونی نگرانی اور کنٹرول کا زور زیادہ نظر آتا ہے۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جب اصل اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت اور حقوق کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو عارضی معاہدے دیرپا امن میں تبدیل نہیں ہوتے بلکہ تنازع کی نئے لہرائیں جنم لیتی ہیں۔

اسی طرح حماس کو 72 گھنٹوں میں فیصلہ کرنے کا دباؤ دینا اور نہ ماننے پر فوجی آپشن کی دھمکی دینا عالمی امن و قانونی ضوابط کے تقاضوں سے میل نہیں کھاتا۔ ایسے وقت میں جب غزہ میں لاکھوں بے گھر، ہزاروں شہید اور بنیادی ڈھانچے تباہ ہو چکے ہیں، بہترین راستہ یہی ہونا چاہیے کہ تمام فریق ایک جامع، شفاف اور فلسطینی ملکیت کے حامل حل کے لیے مل بیٹھیں ، ورنہ عارضی انتظامیہ، غیر ملکی کنٹرول اور فوجی دھمکیاں محض تنازعات ہی کو دوبارہ جنم دیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیتن یاہو

پڑھیں:

آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھکمی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا تو امریکہ اس کے جواب میں ایران کا ایک پل یا ایک پاور پلانٹ تباہ کر دے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹر مپ نے  لکھا کہ آج سے اگر اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی بھی دوسرے ہتھیار سے حملہ کرتا ہے تو امریکہ اس کے بدلے میں ایران کا ایک پل یا ایک پاور پلانٹ تباہ کرے گا، جن میں تہران کے اندر یا اس کے قریب واقع تنصیبات بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہو۔ گزشتہ ہفتے  ایک انٹرویو میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر نہیں آیا تو امریکا اس کے تمام پل تباہ کر دے گا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل