Express News:
2026-06-02@23:03:52 GMT

بھارت نے کھیل کی روح کو مجروح کیا

اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT

بھارت نے تلک ورما کی شاندار بیٹنگ کی بدولت ایشیا کپ کے فائنل میں دلچسپ مقابلے کے بعد پاکستان کو 5 وکٹوں سے شکست دے دی، لیکن بھارتی ٹیم نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایشین کرکٹ کونسل کے صدر اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ایشیا کپ کی ٹرافی لینے سے انکار کیا، یوں بھارتی ٹیم کو نہ تو میڈلز ملے اور نہ ہی چیمپئن کا بورڈ دیا گیا۔

دوسری جانب بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی ٹوئٹ میں کھیل کو ’’آپریشن سندور‘‘ سے تشبیہ دے کر واضح کیا کہ بھارت کے لیے یہ میچ کھیل نہیں، ایک جنگی بیانیہ تھا۔

یہ واقعہ اگرچہ اسپورٹس کی دنیا میں نمایاں حیرت کا باعث بنا ہے، مگر اس کے پسِ پردہ تہذیب، اخلاق، سیاست اور کھیل کی روح کے وہ موضوعات ہیں جنھیں نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ بھارتی ٹیم کا ایشیائی کرکٹ کونسل (ACC) کے صدر اور پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے چیئرمین محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار ایک نہایت سنگین اور علامتی اقدام ہے، جس نے عالمی کرکٹ کی روایات اور کھیل کے اخلاق کو ایک بار پھر سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک انعامی تقریب سے زیادہ ہے، یہ اظہارِ عزائم، وقارِ قومی تشخص، سفارتی کشاکش اور کھیل کے اندر سیاست کی مداخلت کا شدید عکس ہے۔

 بدقسمتی سے بھارت کی طرف سے کھیلوں کے میدان کو سیاست سے آلودہ کیا گیا۔ پاکستان کی طرف سے کبھی بھارت کے ساتھ کھیلنے سے انکار نہیں کیا گیا، تاہم ہندو انتہا پسند ایجنڈے پر عمل پیرا مودی حکومت نے پاکستان کی مخالفت اور مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کو اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے اور اس کے ذریعے وہ ہندو انتہا پسندوں کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے، اگر اندرونی سیاست میں پاکستان اور مسلمانوں کی مخالفت کو استعمال کرنے کی روش ترک کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلوں کے میدان میں میچز ہوں اور دونوں ممالک کے شائقین جو کھیل کو کھیل ہی رکھنے کے حق میں ہیں، اس موقع سے بھرپور لطف اندوز ہوں۔ تاہم جیسے پہلے کہا گیا اس معاملے میں ذمے داری بھارت پر ہی عائد ہوتی ہے جس نے کھیل کے میدانوں کو سیاست سے آلودہ کیا۔

ایشیا کپ میں کرکٹ کی تاریخ کا پہلا بدترین موقع ہے کہ ٹورنامنٹ جیتنے کے باوجود بھارتی ٹیم کی ہٹ دھرمی برقرار رہی، پورے ٹورنامنٹ میں بھارتی ٹیم کا پاکستان ٹیم کے ساتھ جو رویہ رہا وہ انتہائی نامناسب تھا، پہلے بھارتی کھلاڑیوں نے ہینڈ شیک نہیں کیا، پھر ٹرافی کے ساتھ فوٹو سیشن نہیں کیا، ٹورنامنٹ کے دوران بھارتی کپتان نے ایک سیاسی پریس کانفرنس کی، اس طرح وہ کرکٹ کی تاریخ میں پہلے بھارتی کپتان ٹھہرے، جو کھیل میں سیاست لے کر آئے ہیں۔

ٹورنامنٹ کے دوران بھارتی ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو کو سیاسی پریس کانفرنس کرنے پر جرمانہ بھی ہوا لیکن انھوں نے فائنل میچ کے بعد ایک بار پھر پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ وہ ایشیا کپ میں کھیلے گئے اپنے تمام میچز کی فیس بھارتی فوج کو دینے کا اعلان کرتے ہیں۔ دوسری جانب بھارتی کانگریس رہنما اور سابق وزیر ششی تھرور نے ایشیا کپ میں پاک بھارت میچز میں ہینڈ شیک تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے کھیل اور سیاست کو الگ الگ رکھنے کا مشورہ دے دیا۔

انھوں نے کہا ہے کہ 1999 میں کارگل جنگ ہو رہی تھی، سپاہی مر رہے تھے، تب بھی ہم نے انگلینڈ میں ورلڈکپ میں پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملائے تھے تو اب ایسا کیوں ہے؟ اگر ہم پاکستان کے بارے میں اتنا شدت سے محسوس کرتے ہیں تو ہمیں کھیلنا ہی نہیں چاہیے تھا اور اگر ہم کھیل رہے ہیں تو ہمیں کھیل کے جذبے سے کھیلنا چاہیے، ان سے ہاتھ ملانا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کھیل کا جذبہ اس سے مختلف ہے جو ممالک کے درمیان ہوتا ہے۔

دو ممالک کے درمیان کرکٹ کے میدان میں ہونے والا مقابلہ محض ایک کھیل نہیں رہا، بلکہ بھارتی قیادت اور میڈیا نے اسے جس انداز میں پیش کیا، اس سے کھیل کی روح مجروح ہوگئی ہے۔ جب وزیراعظم نریندر مودی نے اس میچ کو ’’آپریشن سندور‘‘ سے تعبیرکیا، تو یہ واضح پیغام تھا کہ کرکٹ جیسے کھیل کو بھی اب سیاسی اور عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس بیان میں چھپی عسکریت پسندی اور جنگی ذہنیت نے کھیل کو اس کی اصل روح، یعنی رواداری، بھائی چارے اور اسپورٹس مین اسپرٹ سے دور کر دیا۔ دوسری جانب بھارتی ٹیم کو نہ تو کسی بڑے اعزاز سے نوازا گیا، نہ کوئی چیمپئن کا بورڈ ان کے ہاتھ آیا، نہ میڈلز، نہ کوئی ٹرافی۔ اس کے باوجود جس انداز سے اس میچ کو فتح سے تعبیر کیا گیا اور قوم پرستی کا رنگ دیا گیا، وہ خطرناک رجحانات کو جنم دے رہا ہے۔ کیا محض ایک کرکٹ میچ کسی قوم کی برتری کا ثبوت ہے؟ کیا کسی ہمسایہ ملک کے خلاف کھیل جیتنا جنگ جیتنے کے مترادف ہے؟ ایسے سوالات صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اٹھائے جا رہے ہیں، جہاں کھیل کو عالمی بھائی چارے کا نشان سمجھا جاتا ہے۔

نریندر مودی کے ’’آپریشن سندور‘‘ جیسے بیانات کا مقصد محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ ایک بڑے بیانیے کا حصہ ہے، جو بھارتیہ جنتا پارٹی کی سوچ کے مطابق، ہر قومی سطح کے معاملے کو ایک مذہبی، عسکری یا دشمن مخالف بیانیے میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ بیانیہ صرف پاکستان مخالف نہیں بلکہ خود بھارتی عوام کو بھی تقسیم کر رہا ہے۔ جب ایک وزیراعظم اپنے ملک کے کھلاڑیوں کو جنگجو بنا کر پیش کرتا ہے، تو وہ درحقیقت ان کی شناخت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ کھلاڑی جنھوں نے برسوں کی محنت سے کرکٹ کو سیکھا، اپنے فن کو نکھارا، ان کو ایک سیاسی ہتھیار بنانا ان کے ساتھ بھی زیادتی ہے اور کھیل کے تقدس کے ساتھ بھی۔ اس رویے سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، لیکن کھیل ہی ایک ایسا شعبہ رہا جہاں دونوں ممالک کے عوام نے ایک دوسرے کے کھلاڑیوں کو سراہا، اپنایا اور ان سے محبت کی۔ اگر اس محبت کو سیاست کی آگ میں جلا دیا جائے تو پھر کھیل صرف نفرت کا آلہ بن کر رہ جائے گا۔

جب ایک کرکٹ میچ کو ’’آپریشن‘‘ کہا جائے گا تو پھر سرحدوں کے پار بیٹھے عوام صرف مخالف کھلاڑی کو نہیں بلکہ پورے ملک کو دشمن سمجھیں گے، اور یہی وہ ذہنی کیفیت ہے جس سے ایک مستقل نفرت کی فضا پیدا ہوتی ہے۔

 دوسری جانب بھارتی ٹیم کے کھلاڑیوں کو بھی ایک مخصوص دائرے میں محدود کر دیا گیا ہے۔ وہ محض کھیلنے والے کھلاڑی نہیں رہے، بلکہ ان سے ایسے بیانات اور رویے کی توقع کی جاتی ہے جو سیاسی بیانیے کے مطابق ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ بھارتی کھلاڑیوں کی زبان سے بھی ایسے جملے سننے کو ملے جو کھیل کے تقدس کے برعکس تھے۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارتی کھیل کے ادارے بھی اب حکومتی بیانیے کے ماتحت ہو چکے ہیں، جہاں کھلاڑیوں کی تربیت صرف کھیل کے میدان میں نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی کی جا رہی ہے کہ وہ کس بیانیے کا حصہ بنیں گے اور کس طرح میڈیا میں پیش آئیں گے۔

اسی ضمن میں یہ بھی اہم ہے کہ بھارت کے کئی سابق کھلاڑی، جنھوں نے کبھی کھیل کی خدمت میں زندگیاں صرف کیں، اب خاموش تماشائی بن چکے ہیں یا بی جے پی کے ترجمان بن گئے ہیں۔ وہ میدان کے باہر بیٹھ کر نہ صرف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ اپنے بیانات سے اس بیانیے کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف جیت محض ایک اسپورٹس فتح نہیں، بلکہ قومی غیرت، وقار اور برتری کا معاملہ ہے۔ یہ رجحان مستقبل میں کرکٹ کے بین الاقوامی تعلقات کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے، کیونکہ جب کھیل میں سیاست غالب آ جائے تو فیئر پلے، مساوات اور اسپورٹس مین شپ جیسے اصول ختم ہو جاتے ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ عالمی ادارے اور کھیلوں کی تنظیمیں اس بیانیے کا نوٹس لیں جو کھیل کے تقدس کو پامال کر رہا ہے۔ کھیل کو کھیل ہی رہنے دیا جائے، اسے سیاسی یا عسکری مفادات کا ایندھن نہ بنایا جائے۔ کیونکہ جب ایک قوم اپنے جذبات کو کھیل میں چھپے جنگی بیانیے سے جوڑتی ہے، تو پھر وہ نہ خود سکون میں رہتی ہے، نہ اپنے ہمسایوں کو سکون سے جینے دیتی ہے۔ کھیل، فتح اور شکست کے جذباتی لمحے اپنی جگہ، مگر جب اس کا استعمال تعصب، نفرت اور سیاسی بالادستی کے لیے ہو، تو یہ صرف کھیل نہیں رہتا، یہ ایک سوچنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

ہمیں سوچنا ہو گا کہ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کھیل کے ذریعے جوڑنا چاہتے ہیں یا توڑنا؟ کیا ہم کرکٹ کو دوستی، بھائی چارے اور امن کا نشان بنانا چاہتے ہیں یا اسے جنگی مشین میں تبدیل کر کے اپنے ہی خطے کو عدم استحکام کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں؟ آج اگر خاموشی اختیار کی گئی، تو کل کھیل کے میدان بارود کے میدان بن جائیں گے، اور جب کھیل نفرت کا ذریعہ بن جائے تو پھر امن کی امید محض ایک سراب بن جاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دوسری جانب بھارت بھارتی ٹیم کے درمیان نہیں بلکہ ہیں بلکہ کے میدان ایشیا کپ کہ بھارت اور کھیل نہیں کیا بھارت کے میں کھیل ممالک کے کھیل کی کھیل کے محض ایک کرتا ہے جو کھیل کرکٹ کو کو کھیل کے ساتھ جائے تو کھیل کو سے کھیل رہا ہے تو پھر کو بھی کپ میں کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد