ملک کے لیے جذبات رکھنا فطری بات لیکن دوران کھیل اصولوں کی خلاف ورزی مناسب نہیں، کپل دیو
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
سابق بھارتی کپتان کپل دیو نے ایشیا کپ 2025 کے دوران پیدا ہونے والے تنازعات کے بعد کہا ہے کہ کھلاڑیوں کو کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے اور سیاسی معاملات سیاستدانوں پر چھوڑ دینے چاہییں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی کپتان کو محسن نقوی اور سلمان آغا سے مصافحہ کرنا مہنگا پڑگیا، غدار قرار دے دیا گیا
بھارتی میڈیا سے گفتگو میں کپل دیو نے کہا کہ یہ فطری بات ہے کہ کھلاڑیوں کے دل میں اپنے ملک کے لیے جذبات ہوتے ہیں، لیکن ان جذبات کی وجہ سے کھیل کی روح اور اسپورٹس مین اسپرٹ متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
کپل دیو نے کہا کہ مصافحہ نہ کرنا یا ٹرافی نہ لینا کوئی بڑی بات نہیں، مگر ایسے معاملات کو طول دینا درست نہیں ہے۔ کھلاڑیوں کو آگے بڑھنا چاہیے اور حکومت کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جبکہ میڈیا کو بھی کھیل پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ ان کے بقول میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ تمام پہلو اجاگر کرے، مگر ایک کھلاڑی کی حیثیت سے وہ چاہتے ہیں کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھا جائے تاکہ کھیل کا ماحول بہتر رہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی کپتان سوریا کمار کا مشتاق احمد سے مصافحہ، ’اب ان کی دیش بھگتی کہاں گئی‘
یاد رہے کہ ایشیا کپ کے تینوں میچز میں پاک بھارت کپتانوں نے روایتی مصافحہ نہیں کیا جبکہ فائنل میں بھارتی ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرمین اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا تھا۔ ایونٹ کا اختتام ٹرافی ہینڈ اوور کے بغیر ہوا، جسے بھارتی کرکٹ بورڈ کے فیصلے کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایشیا کپ بھارت بی سی سی آئی پاکستان ٹرافی فائنل کپل دیو مصافحہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ بھارت پاکستان ٹرافی فائنل کپل دیو مصافحہ کپل دیو
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔