خیبر پختونخوا کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پارٹی ذرائع کاکہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے درمیان گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں ہونے والی ملاقات کے دوران کابینہ میں تبدیلیوں کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے۔
ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں اہم ملاقاتوں کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا، جن میں ممکنہ ردوبدل اور نئے وزراء کی شمولیت پر تفصیلی مشاورت کی گئی، صوبائی کابینہ میں 2 سے 3 نئے اراکین کو شامل کیا جائے گا، جبکہ بعض وزراء کے قلمدان بھی تبدیل کئے جائیں گے۔
حکومت سندھ کا ملک کی پہلی سرکاری ٹیکسی سروس شروع کرنے کا فیصلہ
پارٹی ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کابینہ کے 2 اراکین سے متعلق شکایات بھی بانی پی ٹی آئی کے سامنے رکھیں۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کابینہ میں ممکنہ تبدیلیوں کے بعد انتظامی سطح پر بھی ردوبدل متوقع ہے اور بعض سیکرٹریز کو ان کے عہدوں سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد صوبائی حکومت کی کارکردگی بہتر بنانا اور انتظامی معاملات میں بہتری لانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا کابینہ میں
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔