بادشاہ نے دوسری مہنگی ترین گاڑی خرید لی، قیمت جان کر دنگ رہ جائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
معروف بھارتی ریپر بادشاہ نے اپنی مہنگی ترین گاڑیوں کے کلیکشن میں ایک اور گاڑی کا اضافہ کرلیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گلوکار بادشاہ جن کے پاس پہلے ہی ایک لگژری گاڑی رولز رائس موجود ہے اب انہوں نے ایک اور رولز رائس خرید لی ہے جو کہ مہنگی ترین گاڑیوں میں شمار کی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس کالے رنگ کی خوبصورت گاڑی کی قیمت قریب 12 کروڑ بھارتی روپے ہے جو کہ پاکستانی روپے کے مطابق 380 ملین سے زائد بنتی ہے۔
بادشادہ نے انسٹاگرام پر اپنی اس نئی گاڑی کیساتھ تصاویر شیئر کی ہیں جس پر مداحوں کی جانب سے انہیں مبارکباد دی جارہی ہے۔
یاد رہے کہ بادشاہ کا شمار بھارتی پنجابی میوزک انڈسٹری کے امیر ترین گلوکاروں میں کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں بادشاہ نے امریکا میں اپنے میوزک ٹور سے 6 ملین ڈالرز کمائے تو جوکہ ایک ریکارڈ کمائی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔