شجاع آباد میں لرزہ خیز واقعہ دو نومولود بہنیں زہریلی چیز پلائے جانے سے جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
ملتان:
شجاع آباد میں انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں مبینہ طور پر زہریلی چیز پلائے جانے سے ایک ماہ کی دو نومولود بہنیں نور فاطمہ اور ایمان فاطمہ جاں بحق ہو گئیں۔
تیزاب سے قتل کیے جانے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس پر علاقہ غم و اندوہ میں ڈوبا ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق دونوں بچیاں 30 اگست کو آپریشن کے ذریعے پیدا ہوئی تھیں۔ والدین کے مطابق نور فاطمہ پیدائش کے محض 13 دن بعد انتقال کر گئی جبکہ ایمان فاطمہ کی طبیعت بگڑنے پر اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکی۔
ایمان فاطمہ کا پوسٹ مارٹم سول ہسپتال شجاع آباد میں مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ پولیس اور میڈیکل ذرائع کے مطابق زہریلی یا تیزابی چیز پلانے کا شبہ ہے۔
واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے فرانزک رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
پولیس نے والد عاقب خان کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف ایمان فاطمہ کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ نور فاطمہ کی موت کی بھی الگ سے تفتیش کی جائے گی۔
ابتدائی طور پر پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اندوہناک جرم گھریلو رنجش یا ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہو سکتا ہے تاہم حتمی رائے پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس آنے کے بعد ہی دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایمان فاطمہ
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک