کاروبار کا خواب حقیقت، نئے بزنس شروع کرنے والوں کیلئے خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور میں کاروبار شروع کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے ایک بڑی سہولت متعارف کرا دی گئی ہے۔ اب این او سی حاصل کرنے کے لیے دفاتر کے چکر لگانے اور کاغذی کارروائی کے جھنجھٹ سے چھٹکارا مل جائے گا۔
پنجاب حکومت نے ای گورننس کو فروغ دینے کے لیے ’’ای بز‘‘ پورٹل کا آغاز کر دیا ہے جو کاروباری طبقے کے لیے ایک آسان اور جدید سہولت ثابت ہوگا۔
چیف سیکریٹری پنجاب نے ایڈمنسٹریٹو سیکرٹریز کمیٹی کے اجلاس میں اس پورٹل کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس پورٹل کے ذریعے 30 مختلف کاروباروں کے لیے این او سی کی درخواست دی جا سکے گی اور تصدیق و منظوری کا پورا عمل ڈیجیٹل طریقے سے مکمل ہوگا۔ اس سسٹم کے تحت نہ فائلوں کا بوجھ ہوگا اور نہ ہی دفتر کے چکر لگانے کی ضرورت پیش آئے گی۔
چیف سیکریٹری پنجاب کا کہنا تھا کہ ای بز پورٹل کاروباری طبقے کو براہ راست سہولت فراہم کرے گا اور وقت و وسائل کی بچت ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کا مقصد کاروبار کے فروغ کے لیے ماحول کو زیادہ آسان اور جدید بنانا ہے تاکہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہو اور معیشت کو استحکام ملے۔
اس موقع پر انہوں نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کو یہ ہدایت بھی دی کہ دسمبر تک تمام سرکاری سروسز کو ڈیجیٹل کیا جائے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم ہو سکے اور کاروبار کے لیے درکار تمام عمل ایک ہی پلیٹ فارم پر مکمل کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔