ہونہار طلبہ کو لیپ ٹاپ دینا مالی امداد نہیں بلکہ ان کا حق ہے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
چکوال (نیوز ڈیسک) وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ آج چکوال کے ہونہار طلبہ و طالبات کے درمیان آ کر بے حد خوشی محسوس کر رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے تعلیمی اداروں میں چھٹیاں تھیں اور پھر پنجاب میں بڑے پیمانے پر سیلاب آنے کے باعث وہ مصروف رہیں، جس کی وجہ سے طلبہ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ سے ملاقات ان کے لیے توانائی اور جذبے کا باعث بنتی ہے، اور آج چکوال میں آ کر ان کا جذبہ دوبارہ تازہ ہوا ہے۔
وزیرِاعلیٰ پنجاب نے لیپ ٹاپ حاصل کرنے والے طلبہ اور ہونہار اسکالرز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ سب کی کامیابی پر فخر محسوس کرتی ہوں، اور آپ کے والدین، اساتذہ اور اہلِ خانہ کو بھی مبارکباد دیتی ہوں جنہوں نے آپ کی محنت اور لگن میں آپ کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ مجھے بار بار شکریہ ادا کرتے ہیں مگر درحقیقت یہ ان کا حق ہے جو وہ اپنی محنت اور دن رات کی لگن سے حاصل کرتے ہیں۔
منگل کوچکوال میں ہونہارسکالرشپ اورلیپ ٹاپ سکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےمریم نواز نےکہا کہ یہ کسی قسم کی مالی مدد نہیں بلکہ طلبہ کا حق ہے جو انہیں ان کی صلاحیت اور محنت کے بدلے میں مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لیپ ٹاپ اور اسکالرشپس فخر سے قبول کریں کیونکہ یہ آپ کا جائز حق ہے۔
وزیرِاعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ پنڈی ڈویژن میں لیپ ٹاپ اور ہونہار اسکالرشپس کی تقسیم کا آغاز ہو رہا تھا، اور یہ کہا گیا کہ تقریب راولپنڈی میں رکھی جائے، لیکن انہوں نے فیصلہ کیا کہ چکوال میں تقریب کا انعقاد کیا جائے تاکہ یہ پیغام جائے کہ چکوال بھی ان کی ترجیحات میں کسی بڑے شہر سے کم نہیں ہے۔
انہوں نے خطاب کے دوران طلبہ کی کہانیاں بھی سُنیں اور کہا کہ ہر طالب علم کی زندگی میں ایک منفرد کہانی ہوتی ہے۔ ایک بچی نے بتایا کہ اس کے والد ایک حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے، جبکہ ایک اور طالبہ نے کہا کہ اس کے والد معذور ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ ان کہانیوں نے انہیں بے حد متاثر اور جذباتی کیا، اور اگر ممکن ہوتا تو وہ خود اپنے ہاتھ سے ہر بچے کو لیپ ٹاپ اور اسکالرشپ کا تحفہ دیتیں اور ان کی کہانی بھی سنتیں۔
وزیرِاعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ گزشتہ سال 30 ہزار طلبہ کو ہونہار اسکالرشپس دیے گئے تھے۔ طلبہ کی جانب سے بھاری تعداد میں مزید اسکالرشپس کی ڈیمانڈ کے بعد اس تعداد کو بڑھا کر 50 ہزار کر دیا گیا۔ اب ان شاءاللہ اس سال یہ تعداد 80 ہزار تک لے جائی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وسائل اللہ تعالیٰ کی جانب سے تقسیم ہوتے ہیں لیکن حکومت کی کوشش ہے کہ ہر گھرانے کے بچوں کو تعلیم کے برابر مواقع ملیں۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کے ہر طالب علم کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ حکومت آپ کے ساتھ ہے اور تعلیم کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ ملک و قوم کا مستقبل روشن ہو سکے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے وزیر اعلی لیپ ٹاپ
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔