چکوال (نیوز ڈیسک) وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ آج چکوال کے ہونہار طلبہ و طالبات کے درمیان آ کر بے حد خوشی محسوس کر رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے تعلیمی اداروں میں چھٹیاں تھیں اور پھر پنجاب میں بڑے پیمانے پر سیلاب آنے کے باعث وہ مصروف رہیں، جس کی وجہ سے طلبہ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ سے ملاقات ان کے لیے توانائی اور جذبے کا باعث بنتی ہے، اور آج چکوال میں آ کر ان کا جذبہ دوبارہ تازہ ہوا ہے۔

 وزیرِاعلیٰ پنجاب نے لیپ ٹاپ حاصل کرنے والے طلبہ اور ہونہار اسکالرز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ سب کی کامیابی پر فخر محسوس کرتی ہوں، اور آپ کے والدین، اساتذہ اور اہلِ خانہ کو بھی مبارکباد دیتی ہوں جنہوں نے آپ کی محنت اور لگن میں آپ کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ مجھے بار بار شکریہ ادا کرتے ہیں مگر درحقیقت یہ ان کا حق ہے جو وہ اپنی محنت اور دن رات کی لگن سے حاصل کرتے ہیں۔

منگل کوچکوال میں ہونہارسکالرشپ اورلیپ ٹاپ سکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےمریم نواز نےکہا کہ یہ کسی قسم کی مالی مدد نہیں بلکہ طلبہ کا حق ہے جو انہیں ان کی صلاحیت اور محنت کے بدلے میں مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لیپ ٹاپ اور اسکالرشپس فخر سے قبول کریں کیونکہ یہ آپ کا جائز حق ہے۔

وزیرِاعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ پنڈی ڈویژن میں لیپ ٹاپ اور ہونہار اسکالرشپس کی تقسیم کا آغاز ہو رہا تھا، اور یہ کہا گیا کہ تقریب راولپنڈی میں رکھی جائے، لیکن انہوں نے فیصلہ کیا کہ چکوال میں تقریب کا انعقاد کیا جائے تاکہ یہ پیغام جائے کہ چکوال بھی ان کی ترجیحات میں کسی بڑے شہر سے کم نہیں ہے۔

انہوں نے خطاب کے دوران طلبہ کی کہانیاں بھی سُنیں اور کہا کہ ہر طالب علم کی زندگی میں ایک منفرد کہانی ہوتی ہے۔ ایک بچی نے بتایا کہ اس کے والد ایک حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے، جبکہ ایک اور طالبہ نے کہا کہ اس کے والد معذور ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ ان کہانیوں نے انہیں بے حد متاثر اور جذباتی کیا، اور اگر ممکن ہوتا تو وہ خود اپنے ہاتھ سے ہر بچے کو لیپ ٹاپ اور اسکالرشپ کا تحفہ دیتیں اور ان کی کہانی بھی سنتیں۔

وزیرِاعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ گزشتہ سال 30 ہزار طلبہ کو ہونہار اسکالرشپس دیے گئے تھے۔ طلبہ کی جانب سے بھاری تعداد میں مزید اسکالرشپس کی ڈیمانڈ کے بعد اس تعداد کو بڑھا کر 50 ہزار کر دیا گیا۔ اب ان شاءاللہ اس سال یہ تعداد 80 ہزار تک لے جائی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وسائل اللہ تعالیٰ کی جانب سے تقسیم ہوتے ہیں لیکن حکومت کی کوشش ہے کہ ہر گھرانے کے بچوں کو تعلیم کے برابر مواقع ملیں۔

مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کے ہر طالب علم کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ حکومت آپ کے ساتھ ہے اور تعلیم کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ ملک و قوم کا مستقبل روشن ہو سکے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے وزیر اعلی لیپ ٹاپ

پڑھیں:

ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔

طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا