ویب ڈیسک:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ  پاکستان اور چین کی دوستی ایک لازوال اور ناقابلِ شکست رشتہ ہے جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے، پاکستان چین کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات پر فخر کرتا ہے۔

 وزیراعظم محمد شہباز شریف نے حکومتِ پاکستان اور عوام کی جانب سے عوامی جمہوریہ چین کے 76ویں قومی دن پر چینی قیادت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔

 شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اس مبارک دن پر وہ چینی عوام کی ترقی، خوشحالی اور کامیابی کے لیے دعاگو ہیں، یہ دن نہ صرف چین کے شاندار قومی سفر کی یاد دہانی ہے بلکہ عالمی امن، استحکام اور ترقی میں چین کے کردار کا بھی اعتراف ہے۔

’’اپنے ہتھیار ہمارے حوالے کر دو‘‘

 انہوں نے کہا ہے کہ صدر شی جن پنگ کی بصیرت افروز قیادت میں چین نے ترقی اور خوشحالی کے ایسے سنگِ میل عبور کیے ہیں جو دنیا کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔

 وزیراعظم کے مطابق پاکستان اور چین کی دوستی ایک لازوال اور ناقابلِ شکست رشتہ ہے جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے، یہ رشتہ باہمی اعتماد، قربانی اور اخلاص پر مبنی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔

 شہباز شریف نے کہا ہے کہ ان کا حالیہ دورہ چین انتہائی مفید اور نتیجہ خیز رہا جس کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس اور بزنس ٹو بزنس کانفرنس میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے طے پائے۔

انڈیا کاٹرافی لینے سے انکار،پاکستان کے وقار پر حملہ، محسن نقوی صرف بہانہ!

 وزیراعظم نے مزید کہا ہے کہ سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان سب سے اہم مشترکہ منصوبہ ہے جو اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، پاکستان چین کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات پر فخر کرتا ہے اور ہم پرامید ہیں کہ دونوں ممالک اپنی شراکت داری کو نئے سنگ میل تک لے جائیں گے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: پاکستان اور چین شہباز شریف نے کہا ہے کہ کے ساتھ چین کے

پڑھیں:

سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی

خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی سمندری تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے کراچی(Karachi) اور گوادر(Gwadar) بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں، جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔

کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14,300 سے بڑھ جائے گی، خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔

میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔

مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے

حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے، تاہم سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔

 کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں، پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم کی معروف صنعتکاروں، ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقات، پالیسی سازی، بجت سے متعلق مشاورت
  • سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • راولپنڈی: گھر میں لاکھوں روپے کی چوری کا ڈراپ سین، قریبی رشتہ دار ہی ملوث نکلا
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ