سلمان خان کے والد کا اعتراف، شادی میں سب سے بڑی رکاوٹ مذہب تھا
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
بالی ووڈ کے سینئر فلم رائٹر اور فلم ساز سلیم خان نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق اہم انکشاف کیا ہے۔ ارباز خان کے ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اپنی اہلیہ سلمیٰ خان سے شادی کے موقع پر سب سے بڑی رکاوٹ مذہب تھا۔
سلیم خان کے مطابق ان کا تعلق سلمیٰ خان سے ابتدا میں خفیہ طور پر قائم ہوا، مگر جلد ہی انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس رشتے کو گھر والوں کے سامنے لے کر آئیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سلمیٰ خان کا اصل نام سوشیلا تھا اور جب پہلی بار ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات ہوئی تو وہ شدید دباؤ میں تھے، ایسا لگا جیسے پورے مہاراشٹر کے لوگ انہیں دیکھنے جمع ہوگئے ہوں۔
سلیم خان نے کہا کہ سلمیٰ کے والد نے ان کے مذہب پر اعتراض کیا کیونکہ وہ ہندو اور میں مسلمان تھا، لیکن انہوں سلیم خان نے صاف جواب دیا کہ ہمارے درمیان کئی مسائل ہوسکتے ہیں مگر مذہب کبھی رکاوٹ نہیں بنے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سلمیٰ کی دادی اس رشتے کی سب سے بڑی حامی تھیں۔
یاد رہے کہ سلیم خان اور سلمیٰ کی شادی 1964 میں ہوئی جس کے بعد سوشیلا نے اسلام قبول کرلیا اور ان کا نام تبدیل کر کے سلمیٰ خان ہوگیا۔ شادی کے بعد ان کے چار بچے سلمان، ارباز، سہیل اور علویرا پیدا ہوئے۔ بعد ازاں 1981 میں سلیم خان نے اداکارہ ہیلن سے دوسری شادی کی جوکہ غیر مسلم ہیں، تاہم آج بھی پورا خاندان ایک ساتھ رہتا ہے اور ان کے درمیان کوئی مسائل نہیں ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سلیم خان نے انہوں نے
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت