بھارتی فورسز کشمیری نوجوانوں سے کھیل کے میدان نہ چھینیں، محبوبہ مفتی
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ مقامی باشندوں نے انہیں بتایا کہ فوج اس میدان کو گھیر رہی ہے اور اسے اپنے استعمال میں لانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے عوامی رسائی محدود ہوجائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) صدر محبوبہ مفتی نے بھارتی فورسز سے کشمیری نوجوانوں سے کھیل کے میدان نہ چھیننے اور عوامی مقامات کو فوجی تنصیبات میں تبدیل کرنے کا سلسلہ بند کرنے کی اپیل کی ہے۔ محبوبہ مفتی کے مطابق اس طرح نوجوانوں کو تفریحی اور سماجی سرگرمیوں سے محروم کرنا طویل مدتی منفی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ محبوبہ مفتی نے سرینگر کے دو اور بارہمولہ ضلع کے ایک کھیل میدان کا ذکر کیا جو بقول ان کے فوج، پولیس اور "سی آر پی ایف" نے گھیر رکھا ہے یا انہیں اپنے استعمال کے لئے محفوظ و مخصوص کر رکھا ہے، حالانکہ یہ مقامات کئی دہائیوں سے مقامی نوجوانوں کے کھیل کود اور عوامی اجتماعات کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں۔
انہوں نے پائین شہر کے چھتہ بل علقے کے "تبیلہ گراؤنڈ" اور برزلہ کے ایم ای ٹی اسکول گراؤنڈ کا دورہ کیا اور مقامی باشندوں اور پارٹی کارکنوں سے ملاقات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیل کے یہ میدانوں کو یہاں کے نوجوان برسوں سے کھیل کود کی سرگرمیوں کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اپنے حالیہ "من کی بات" پروگرام میں کشمیری نوجوانوں کی کھیلوں میں شمولیت کو سراہا۔ یہ میدان سماجی لحاظ سے بھی اہم ہے کیونکہ شادی بیاہ، جنازوں اور دیگر تقریبات کے لئے عوام ان ہی گراؤنڈز کو استعمال میں لاتے ہیں۔ محبوبہ مفتی کے مطابق مقامی باشندوں نے انہیں بتایا کہ فوج اس میدان کو گھیر رہی ہے اور اسے اپنے استعمال میں لانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے عوامی رسائی محدود ہوجائے گی۔ انہوں نے سرینگر میں فوج کے کور کمانڈر سے اپیل کی کہ یہ میدان عوام اور نوجوانوں کے لئے ہی مختص رہنے چاہیئے۔
انہوں نے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور وزیراعلٰی عمر عبداللہ کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کو فوری مداخلت کرنی چاہیئے اور فوج سے بات کرنی چاہیئے تاکہ یہ میدان عوام کے لئے محفوظ رہیں۔ محبوبہ مفتی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پولیس نے برزلہ کے ایم ای ٹی گراؤنڈ کو شہدا کی یادگار بنانے کے لئے اپنے قبضے میں لے لیا ہے جبکہ سی آر پی ایف بارہمولہ کے شیری علاقے میں ایک اور میدان پر قابض ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایم ای ٹی گراؤنڈ گزشتہ 70 برس سے کھیلوں کے لئے استعمال ہو رہا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نوجوانوں سے یہ میدان چھیننے کے سنگین سماجی اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نوجوانوں کے لئے جگہ فراہم نہیں کر سکتی تو ہم کس قسم کا مستقبل تعمیر کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی انہوں نے یہ میدان سے کھیل گراو نڈ کہا کہ کے لئے
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ