مزاحمتی محاذ کی تشکیل میں لبنانی علما اور ایران کے درمیان تاریخی ہم آہنگی پر ایک نظر (1)
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
اسلام ٹائمز: گرچہ شیعہ کمیونٹیز ایک دوسرے سے دور عالم اسلام کے مختلف حصوں میں واقع تھیں اور اس وجہ سے ان کے درمیان کوئی قریبی لسانی، ثقافتی یا مواصلاتی رابطہ نہیں تھا، لیکن شیعہ مذہب سے وابستگی، مشترکہ امنگوں اور شیعی تشخص کی حفاظت جیسے عوامل شیعوں کے اتحاد اور ہم آہنگی کا سبب بنے۔ اسی طرح شیعیت کی ترقی اور توسیع کے لئے طاقت فراہم کرنے جیسے اہداف مختلف ممالک کے شیعوں کی قربت اور روابط کو تقویت دیتے رہے۔ خصوصا یہ ارتباط مجتہدین اور بزرگ علما کی کوششسوں اور کاوشوں کیوجہ سے وجود میں آتا اور بڑھتا رہا ہے۔ اسی طرح ایک ملک یا خطے سے دوسرے ملک یا خطے میں موجود حوزہ ہائے علمیہ میں حصول علم اور دینی تحقیق کے لئے آمد و رفت بھی اس کا اہم عامل رہا ہے۔ نکتہ نظر: حجت الاسلام والمسلمین ایزدی
پوری دنیا میں بسنے والے ایک ہی مذہبی، ثقافتی اور سیاسی فکر کے حامل شیعہ مسلمانوں نے مشترکہ اہداف کے حصول کی خاطر ہمیشہ دشمن سے نبردآزما ہونے اور درپیش مشکلات سے گلوخلاصی کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور باہمی تعامل کے ذریعے ایک دوسرے کے پشتی بان رہے ہیں۔ خبررساں ادارے تسنیم کیساتھ گفتگو میں نظام ہائے اسلامی پر تحقیق کرنیوالے ادارے کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین ایزدی نے اسی تناظر میں لبنانی اور ایرانی علمائے کرام کے درمیان تعامل کی تاریخ پر گفتگو کی ہے اور ایرانی مومنین کی طرف سے لبنانی مومنین کو فراہم کی جانے والی امداد کا ذکر کرتے ہوئے اسے مشترکہ شیعہ مزاحمت کی فرنٹ لائن کی مدد قرار دیا ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین ایزدی کے مطابق غیبت امام زمانہ علیہ السلام کے کئی سالوں پر محیط زمانے میں، جب عالم اسلام پر ظالم اور غیر شیعہ حکمرانوں کا تسلط رہا ہے، ان ادوار میں شیعہ عوام اور شیعہ علماء، مذہبی اقلیت کی حیثیت سے، ان حکمرانوں کی طرف سے مسلسل ہراسگی، دھمکیوں اور دباؤ کا شکار رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی شیعہ منطق کی بنیاد پر انہوں نے تقیہ کا اصول اپنایا اور حکومتی جبر کے باوجود اپنے ثقافتی اور مذہبی تشخص کو برقرار رکھنے کی کوشش کی، جابر حکمرانوں کے ظلم و جبر کیخلاف مقاومت میں کامیاب رہے۔ اور اس طرح سنگین حالات میں مذہبی نصوص اور عقلانہ حکمت عملی کی روشنی میں موزوں طریقہ ہائے کار اور مناسب روشوں کو اپنا کر وسیع تر اہداف اور مقاصد کو حاصل کیا۔
امویوں اور عباسیوں کے ادوار حکومت سمیت اسلامی دنیا سنی حکمرانوں کے تسلط میں رہی ہے اور اسلامی معاشروں کی اکثریت بھی سنی مسلمانوں پر مشتمل تھی، لیکن اسلامی دنیا ہمیشہ دیگر مسالک اورچند ذیلی معاشروں کا مجموعہ ہی تھی۔ تاریخ کے ہر دور اور دنیا کے مختلف خطوں میں شیعہ اپنی مذہبی شناخت اور ثقافت کیساتھ اسلامی معاشروں (یعنی دارالسلام) کا اہم حصہ رہے ہیں۔ لیکن عملی طور پر اپنے ذیلی عنوان (دارالایمان) کے تحت پوری دنیا کے شیعہ ایک مشترکہ شناخت اور تاریخ کے حامل بھی ہیں، یہ شیعی عنوان مومنین، شیعہ علماء اور مدارس پر مشتمل رہا ہے، جو ایران، عراق، جبل عامل (لبنان) اور یمن تک پھیلے ہوئے ہیں۔
اگرچہ شیعہ کمیونٹیز ایک دوسرے سے دور عالم اسلام کے مختلف حصوں میں واقع تھیں اور اس وجہ سے ان کے درمیان کوئی قریبی لسانی، ثقافتی یا مواصلاتی رابطہ نہیں تھا، لیکن شیعہ مذہب سے وابستگی، مشترکہ امنگوں اور شیعی تشخص کی حفاظت جیسے عوامل شیعوں کے اتحاد اور ہم آہنگی کا سبب بنے۔ اسی طرح شیعیت کی ترقی اور توسیع کے لئے طاقت فراہم کرنے جیسے اہداف مختلف ممالک کے شیعوں کی قربت اور روابط کو تقویت دیتے رہے۔ خصوصا یہ ارتباط مجتہدین اور بزرگ علما کی کوششسوں اور کاوشوں کیوجہ سے وجود میں آتا اور بڑھتا رہا ہے۔ اسی طرح ایک ملک یا خطے سے دوسرے ملک یا خطے میں موجود حوزہ ہائے علمیہ میں حصول علم اور دینی تحقیق کے لئے آمد و رفت بھی اس کا اہم عامل رہا ہے۔
عالم اسلام میں جبل عامل (لبنان) کے علماء کا مقام اور کردار:
لبنان کا علاقہ جبل عامل اسلامی تاریخ کی ابتدائی صدیوں سے ہی عالم اسلام کے شیعہ نشین علاقوں میں سے ایک تھا۔ اگرچہ یہ اسلامی دنیا کے مغرب میں واقع تھا اور عراق اور ایران جیسے علاقوں سے بہت دور تھا (جو شیعہ آبادی کا مراکز رہے ہیں)، لیکن جبل عامل میں ہمیشہ وفادار، پرعزم اور مبارز لوگ موجود رہے ہیں۔ یہاں اس قدر زیادہ اور اس طرح اہم علما پیدا ہوئے کہ شیعہ حوزہ ہائے علمیہ غنی اور قوی ہوتے گئے۔ اس علاقے میں پرورش پانے والے علماء اپنے اور دیگر شیعہ علاقوں میں شیعیت کی بہتری اور ترقی کا سبب بنے۔ جیسے ہم شہید اول، شہید ثانی، شیخ بہائی، محقق کرکی، شیخ حر عاملی، اور عبدالحسین شرف الدین کا ذکر کر سکتے ہیں۔
اس خطے میں شیعیت کی بقا اور ترقی، نیز اسلامی دنیا کے بہت سے حصوں میں شیعیت کی توسیع ان کی علمی اور عملی کوششوں کی وجہ سے ہے۔ جبل عامل کے علاقے کے علماء کئی لحاظ سے مزاحمتی علماء کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایک طرف، مصر اور شام کا خطہ بادشاہوں کے زیر تسلط تھا (7ویں سے 10ویں صدی ہجری میں)، یہ سنی مذہبی رجحان رکھتے تھے اور اپنے اقتدار اور تسلط کو مضبوط بنانے کے درپے رہتے تھے۔ ان جابر حکمرانوں کی کوشش ہوتی تھی کہ جبل عامل کے شیعہ علما ان کی تائید کریں تاکہ اس سے ان کی سیاسی حیثیت کو مذہبی جواز مل سکے، جو علما کو قابل قبول نہ تھا۔ علما نے مزاحمت اور مقاومت دکھائی، اور اسی وجہ سے انہیں جبل عامل سے ہجرت کرنا پڑی، جس سے جبل عامل کے علاقے کو نقصان پہنچا۔
شیعہ مخالف سنی حکمرانوں کی سخت گیری اور شیعہ دشمنی کیوجہ سے جبل عامل کے شیعہ علما نے شیعہ تشخص کی بقا کے لئے سخت تگ و دو کی۔ ان علما نے نہ صرف تشیع، شیعوں اور شیعہ تشخص کو باقی رکھا، بلکہ مذہب کو ترقی، تسلسل، ترویج اور توسیع دی۔ ان میں سے بہت سے علما نے قربانی دی اور شہادت قبول کی، جس وجہ سے یہ علما دنیا کے باقی شیعہ علما کے لئے نمونہ عمل قرار پائے۔ یوں جبل عامل کے علما نے ظالم و جابر حکمرانوں کے مقابلے میں شیعیت اور شیعوں کی بقا اور تسلسل میں کامیابی حاصل کی۔
اسی طرح چونکہ شیعہ تہذیب و ثقافت کا فکری ارتقا اور علمی پیشرفت شیعوں کے لئے واضح روڈ میپ پر منحصر تھا، اس زمرے میں جبل عامل کے علما اور فقہا نے علم فقہ کی بہت خدمت کی، جو مذہب کی ترقی اور وسعت کا سبب بنی۔ مزاحمت کے میدان میں ان فقہا کی قیادت کی نشاندہی کرنے والی چیزوں میں سے شیعہ معاشروں میں مزاحمتی روڈ میپ اور ایک خالص دینی طرز زندگی کی ترویج بھی واضح ہے۔ مثال کے طور پر شہید اول نے «اللمعه الدمشقیه» نامی کتاب خراسان کے فرمانروا شمسالدین محمد آوی کی درخواست پر خراسان کے شیعون کے لئے لکھی۔ شمس الدین محمد آوی خراسان کے سربداران کے آخری حکمران سلطان علی ابن موئد کے ساتھیوں میں سے ایک تھے۔
واضح طور پر جس چیز نے خراسان کے فرمانروا اور جبل عامل کے علماء کے درمیان اتنے زیادہ جغرافیائی فاصلے کو آڑے نہیں آنے دیا، وہ شیعہ تشخص کی فکر اور عالم اسلام کے دوسرے حصوں میں رہنے والے شیعوں کی مدد کرنا تھا۔ خراسان کے آخری امیر کی حیثیت سے (766 ہجری میں) سلطان علی ابن موئد نے باضابطہ طور پر شہید اول سے خراسان تشریف لانے اور منصب اقتدار کو سنبھالنے کی درخواست کی تھی۔ شہید اول کے نام ان کے خط کے ایک حصے میں انہوں نے لکھا کہ ’’ہم اپنے درمیان کوئی ایسا شخص نہیں پاتے، جس کے فتوے پر علمی اعتبار سے اعتماد کیا جا سکے یا لوگ صحیح عقائد سیکھ سکیں، ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں آپ کے پر افتخار وجود کے ذریعے نور عطا فرمائے تاکہ ہم آپ کے علم کی روشنی میں رفتار زندگی کو اپنا سکیں، اگر آپ خدا پر بھروسے کے ساتھ یہاں تشریف لاتے ہیں تو یہ آپ کا لطف ہوگا، عذر سے گریز کرتے ہیں تو یہ ایک اضافی احسان ہوگا۔
اگرچہ شہید اول نے اس درخواست کو قبول نہیں کیا، لیکن خراسان کے والی، یعنی سلطان علی ابن موئد کی درخواست پر خراسان کے شیعوں کی رہنمائی کے لئے«اللمعه الدمشقیه» نامی کتاب لکھی۔ اس کے بعد منگول حکمرانوں کے درباروں میں علماء کی حاضری اور موجودگی کے برخلاف علامہ حلی کا کردار، ایران میں سلطان محمد خدابندہ کی شیعہ مذہب میں دلچسپی اور فروغ میں ان کے اثر و رسوخ کا ذکر ایک الگ تاریخ ہے۔ علامہ حلی کتاب "نہج الحق و کشف الصدق" اور فخر المحقین کو ساتھ لیکر حلہ شہر سے سلطانیہ منتقل ہوئے اور سلطان محمد خدابندہ کے دربار میں گئے۔ انہوں نے سلطان کو دو اور کتابیں "منہاج الکرامہ" اور "نہج الحق" پیش کیں، ایک ائمہ معصومین (ع) کے بارے میں ہے اور دوسری عقیدہ امامت کا ایک نصاب ہے۔
جاری ہے۔۔۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عالم اسلام کے اسلامی دنیا حکمرانوں کے جبل عامل کے ملک یا خطے خراسان کے ایک دوسرے میں شیعیت کے درمیان اور ایران شیعیت کی شہید اول شیعوں کی کے لئے ا رہے ہیں کے علما کے شیعہ دنیا کے تشخص کی کے علم ہے اور اور اس کا سبب رہا ہے
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔