مریم نواز دنیا بھر کے دورے کرسکتی ہیں تو خیبر پختونخوا حکومت کو بھی اجازت دی جائے، بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
پشاور یونیورسٹی میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ صوبائی حکومت نے افغانستان میں وفد بھیجنے کے لیے وفاق کو کئی بار خطوط لکھے لیکن کوئی جواب نہیں ملا، وفاقی حکومت اپنے نمائندے بھی وفد میں شامل کرے تاکہ ان کے خدشات دور ہوسکیں۔ اسلام ٹائمز۔ مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز دنیا بھر کے دورے کرسکتی ہیں تو خیبر پختونخوا حکومت کو بھی اجازت دی جائے۔ پشاور یونیورسٹی میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ صوبائی حکومت نے افغانستان میں وفد بھیجنے کے لیے وفاق کو کئی بار خطوط لکھے لیکن کوئی جواب نہیں ملا، وفاقی حکومت اپنے نمائندے بھی وفد میں شامل کرے تاکہ ان کے خدشات دور ہوسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پہلے اپنی کریڈیبلٹی درست کریں اور پاکستان کے حقیقی وزیر اعظم بننے کا ثبوت دیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں امن تب ہی ممکن ہے جب مودی مذاکرات کے لیے تیار ہوگا اور اُس کے دانت توڑنے سے ہی بات آگے بڑھے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی جس میں امن و امان، کابینہ کی کارکردگی اور دیگر مسائل پر بریفنگ دی گئی۔ بانی نے وزیر اعلیٰ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مالی و انتظامی اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جلسے میں بدنظمی سے متعلق سوال پر بیرسٹر سیف نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک سنجیدہ جماعت ہے، اختلاف یا ناراضگی کا اظہار ضرور ہو مگر طریقہ کار جمہوری ہونا چاہیے، ہلڑ بازی کسی طور قابل قبول نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بیرسٹر سیف نے کہا نے کہا کہ
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔