مراکش میں پرتشدد مظاہروں کے بعد حکومت مذاکرات پر تیار
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
رباط (انٹرنیشنل ڈیسک) مراکش میں نوجوانوں کی جانب سے حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کر گئے ۔ خبررساں اداروں کے مطابق مراکش کے دارالحکومت رباط سمیت کئی شہروں میں آن لائن گروپ جین زی کی کال پر نوجوانوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی جس کے نتیجے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ سرکاری خزانہ نئے فٹبال اسٹیڈیم پر خرچ کرنے کے بجائے تعلیم، صحت اور بدعنوانی کے خاتمے پر لگایا جائے۔ جنوبی شہروں میں مظاہروں کے دوران بینک اور گاڑیاں جلائی گئیں جس پر درجنوں مظاہرین گرفتار بھی ہوئے۔ کاسا بلانکا میں ہائی وے بند کرنے والے 24 نوجوانوں کے خلاف تفتیش شروع کردی گئی۔ دوسری جانب مراکش حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نوجوانوں سے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر تیار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔