سعودی عرب میں لائسنس کے بغیر مریضوں کا علاج کرنے والا خود ساختہ ڈاکٹر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 اکتوبر2025ء)سعودی وزارت صحت کی تفتیشی ٹیموں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے شمالی حدود ریجن میں عرب ملک سے تعلق رکھنے والے خود ساختہ ڈاکٹر کو حراست میں لیا ہے۔صحت قوانین کی خلاف ورزی کے کیسز میں 6 برس تک قید اور ایک لاکھ ریال تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ وزارت نے بتایا تفتیشی کمیٹی کو اطلاع ملی تھی کہ ایک عرب ملک سے تعلق رکھنے والا غیرملکی لوگوں کا علاج کرتا ہے۔
(جاری ہے)
اس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ مستند معالج ہے بھی یا نہیں۔تفتیشی کمیٹی نے ملزم کے بارے معلومات حاصل کی تو اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ وہ مستند معالج نہیں تھا اور نہ اس کے پاس پریکٹس کا لائسنس تھا۔ملزم اپنی نجی گاڑی میں مریضوں کے گھر جاتا اور اپنے طریقے سے فزیو تھراپی، نیورولوجی ، پوسٹ سٹروک فالو اپ، ڈسک کھسکنے اور عام تھکاوٹ کا علاج کرتا جو صحت ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے متعلقہ ادارے کے حوالے کردیا گیا ہے جہاں اس کا کیس عدالت میں بھیجا جائے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔