وزیراعظم کا آزادکشمیر میں ناخوشگوار واقعات پر اظہارِ تشویش، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
سٹی 42 : وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے آزادکشمیر میں ناخوشگوار واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دے دیا۔
وزیراعظم کی ہدایت پرعوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے لیے حکومتی مذاکراتی ٹیم مظفر آباد پہنچ گئی۔ وفد میں ڈاکٹر طارق فضل چودھری ، امیر مقام ،احسن اقبال ، رانا ثنا اللہ، سردار یوسف، راجا پرویز اشرف، قمر زمان کائرہ اور سردار مسعود احمد شامل ہیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انورارلحق بھی وفد کے ساتھ موجود ہیں۔
پنجاب پولیس کے دو افسروں کے تبادلے
حکومتی وفد احتجاج کی قیادت کرنے والی عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سے مذاکرات کرے گا ۔تمام معاملات کو بات چیت کے ذریعے پرامن طور پر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
وزیراعظم نے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو مظاہرین پر غیر ضروری سختی نہ کرنے کی ہدایت کی ہے، ساتھ ہی ایکشن کمیٹی سے حکومتی ٹیم کے ساتھ تعاون کی اپیل بھی کی ہے۔
حکومتی اعلیٰ سطح وفد کے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں سے باضابطہ مذاکرات شروع ہوگئے۔ وفاقی قیادت اور آزاد کشمیر نمائندوں میں مختلف امور پر مشاورت جاری ہے۔
ویمن گرین شرٹس آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ ٹرافی گھر لانے کیلئے پہلا قدم کل بڑھائیں گی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ایکشن کمیٹی
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔