ایف سی کا ہیڈ کوارٹرپشاور سے اسلام آباد منتقل کرنے کی تیاریاں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: فیڈرل کانسٹیبلری کا ہیڈکوارٹر پشاور سے اسلام آباد منتقل کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ سی ڈی اے نے ایوان صدر کے عقب میں ہیڈکوارٹر بنانے کیلئے جگہ کی نشاندہی کردی۔ عمارت کی تعمیر بھی اسی سال مکمل ہونے کا امکان ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق ایف سی کا ہیڈکوارٹر ایوان صدر کے عقب میں بری امام کے قریب بنایا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایت پر سی ڈی اے نے اراضی کی نشاندہی کردی،فیڈرل کانسٹیبلری کا ہیڈکوارٹر پشاور سے اسلام آباد منتقل کیا جائے گا۔
اسپیشل کیس کے طور پر عمارت اسی مالی سال میں مکمل کی جائے گی۔ آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری کا دفتر بھی ہیڈ کوارٹر کے اندر ہی بنایا جائے گا۔
سرحدی علاقوں میں امن قائم رکھنے کے لیے فرنٹیئر کانسٹیبلری بنائی گئی۔1975 میں ذوالفقار علی بھٹو دور میں ایف سی کو وفاق کے ماتحت کیا گیا۔اب قومی سطح پر کردار کیلئے ایف سی کو فیڈرل کانسٹیبلری کردیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیڈرل کانسٹیبلری اسلام ا باد ایف سی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔