معروف بھارتی اداکار سوا ارب روپے کی منشیات اسمگل کرتے رنگے ہاتھوں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
بھارتی فلم اسٹوڈنٹ آف دی ایئر 2 کے معروف اداکار منشیات اسمگل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اداکار 32 سالہ وشال برہما کے بیگ سے چنئی ایئرپورٹ پر بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہوئی تھی جس کی مالیت 40 کروڑ بھارتی روپے ( ایک ارب 26 کروڑ پاکستانی روپے) ہے۔
وشال برہما سنگاپور سے ایئر انڈیا کی پرواز AI 347 کے ذریعے چنئی پہنچے تھے جہاں ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس (DRI) کے اہلکاروں نے تلاشی لی تو میتھاکولون نامی ممنوعہ منشیات برآمد ہوئی۔
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ اداکار کو مبینہ طور پر نائیجیریا کے ایک منشیات فروش گروہ نے بڑی رقم کے عوض یہ بیگ اسمگل کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اداکار سے پوچھ گچھ جاری ہے جبکہ بین الاقوامی نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تفتیش کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔
وشال برہما نے 2019 میں ریلیز ہونے والی فلم اسٹوڈنٹ آف دی ایئر 2 میں اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔
یاد رہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں گزشتہ ماہ ہی رگینی دوویدی اور سنجنا گالرانی بھی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار ہوچکی ہیں۔
ان یہ دونوں اداکارائیں بھی کناڈا فلم انڈسٹری سے تھیں اور بنگلور پولیس نے منشیات ریکٹ کے خلاف کارروائی کے دوران ان کے گھروں پر چھاپے مارے اور انہیں حراست میں لیا۔
اسی طرح مارچ کے مہینے میں بھی ایک اور اداکارہ رانیا راؤ کو بنگلور ایئرپورٹ پر 14 کلوگرام سونا اسمگل کرنے کی کوشش میں گرفتار کیا گیا تھا۔
انھیں اُس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ دبئی سے واپس آ رہی تھیں۔ ان سے برآمد ہونے والے سونے کی مالیت تقریباً 12 کروڑ روپے (تقریباً 38 کروڑ پاکستانی روپے) تھی۔
وہ یہ سونا اپنے جسم کے مختلف حصوں پر چھپا کر لائی تھیں۔ بعد میں انکشاف ہوا کہ وہ ایک بین الاقوامی اسمگلنگ نیٹ ورک سے جڑی ہوئی تھیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔