سپر ٹیکس کا مطلب ہی اضافی ٹیکس ہے‘ واضح کرنے کی کیا ضرورت‘ عدالت عظمیٰ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عدالت عظمیٰ کے آئینی بینچ نے سپر ٹیکس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ سپر ٹیکس کا مطلب ہی اضافی ٹیکس ہے، اس کو اور کیا واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ مختلف ٹیکس پیئر کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم نے وقفے کے بعد دلائل دیے۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ انکم ٹیکس کی شق 99 ڈی میں ترمیم پر باقی ہائی کورٹس سے فیصلہ ہوچکا ہے؟ مختلف ٹیکس پیئر کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ترمیم خارج کر دی ہے جبکہ اسلام آباد اور لاہور ہائیکورٹ میں زیر التوا ہیں، آج کی تاریخ میں بینکوں پر سپر ٹیکس 10 فیصد ملا کر 53 فیصد بن جاتا ہے، فی الحال بینکوں پر ٹیکس لگا ہے اور ترمیم میں تمام سیکٹرز کا نام ہے۔ وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ اچھے ہوں، برے ہوں یا چور ہوں لیکن معیشت کا پہیہ ان سے ہی چل رہا ہے، اس صورتحال کے بعد لوگ افریقا کے مختلف ممالک میں اپنی فیکٹریاں شفٹ کر گئے ہیں۔ جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں تھنک ٹینکس نہیں ہیں۔ وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ عدالتیں ٹیکس پیئر کو ریلیف نہیں دیں گی تو وہ ہاتھ ملائیں گے تو وہ نقصان کس کا ہوگا، ہائی کورٹس سے ہماری اپیلیں ڈرافٹ میں مسئلہ ہونے کی وجہ سے منظور ہوئیں۔ سپر ٹیکس کیسز کی سماعت کے دوران پارلیمنٹ اور آئین کی اہمیت کا ذکر ہوا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آئین پارلیمنٹ سے ہی بنتا ہے۔ وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ پاکستان میں پارلیمنٹ سے زیادہ آئین کی پاور ہے، پوری دنیا میں پارلیمنٹ کی پاور ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ 4 سی میں اضافی ٹیکس کے حوالے سے واضح نہیں لکھا، اگر اضافی ٹیکس کے بارے میں لکھا ہوتا تو آپ کو مسئلہ نہ ہوتا۔ وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ جی یہ الفاظ لکھے ہوتے تو معاملہ واضح ہوتا، میں نے اپنے دور میں سپر ٹیکس نہیں لگنے دیا۔ جسٹس محمد علی مظہر کے ریمارکس دیے کہ سپر ٹیکس کا مطلب ہی اضافی ٹیکس ہے، اس کو اور کیا واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ وکیل فروغ نسیم نے دلائل میں کہا کہ جب ایڈیشن ہوگا تو سپر ٹیکس لگے گا، مجھے کوئی ڈکشنری دکھا دیں جس میں لکھا ہو سپر ٹیکس کا مطلب اضافی ٹیکس ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ جب سپر ٹیکس کا مطلب ہی اضافی ٹیکس ہے تو کیا دکھائیں، انکم کی تعریف لکھی ہے تو ضرورت ہی نہیں ہے سپر ٹیکس کا مطلب لکھنا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ لکھا ہوا ہے کہ سپر ٹیکس الگ ٹیکس ہے تو یہ ڈبل ٹیکس تو نہ ہوا ناں۔ وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ انٹری 55، 56 اور 58 میں سپر ٹیکس الگ آزاد ٹیکس ہے، اب جب ٹیکس الگ لکھیں گے نہیں تو آزاد نہیں ہے، آئندہ ہفتے سے سپر ٹیکس کیسز کی سماعت کا وقت کیا رکھیں گے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت بعد میں رکھیں گے، پہلے سپر ٹیکس کی سماعت ہوگی۔ وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ میں آئندہ ہفتے سے آئینی دلائل دوں گا، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آئینی بینچ ہے اور ابھی تک اس کیس میں آئینی بات ہی نہیں ہوئی۔ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سپر ٹیکس کیسز کی سماعت آج جمعہ تک ملتوی کر دی، مختلف ٹیکس پیئر کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم دلائل جاری رکھیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ جسٹس جمال مندوخیل نے نے ریمارکس دیے کہ سپر ٹیکس کی ٹیکس پیئر کی سماعت
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔