اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کا رجحان، انڈیکس آج بھی نئی بلند ترین سطح پر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
کراچی:
اسٹاک مارکیٹ میں آج بھی زبردست تیزی کا رجحان ہے، جس کے نتیجے میں انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج جمعہ کے روز کاروبار کا آغاز 459 پوائنٹس کی شان دار تیزی کے ساتھ ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 68 ہزار 949 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
بعد ازاں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے کے نتیجے میں تیزی کا رجحان مارکیٹ پر غالب آیا اور 939 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ انڈیکس ایک لاکھ 69 ہزار 429 پوائنٹس کی ریکارڈ ساز سطح کو چھو گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی کاروبار کے آغاز پر ہی مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا تھا اور 100 انڈیکس میں 593 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس سے انڈیکس ایک لاکھ 66 ہزار 233 پوائنٹس تک پہنچ گیا تھا۔ بعد ازاں دورانِ کاروبار تیزی کا یہ سلسلہ برقرار رہا اور انڈیکس میں مزید اضافہ ہوتا گیا، جس سے دن کے اختتام تک 100 انڈیکس 2 ہزار 849 پوائنٹس کے نمایاں اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 68 ہزار 489 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر بند ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پوائنٹس کی تیزی کا
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔