اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کا رجحان، انڈیکس آج بھی نئی بلند ترین سطح پر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
کراچی:
اسٹاک مارکیٹ میں آج بھی زبردست تیزی کا رجحان ہے، جس کے نتیجے میں انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج جمعہ کے روز کاروبار کا آغاز 459 پوائنٹس کی شان دار تیزی کے ساتھ ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 68 ہزار 949 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
بعد ازاں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے کے نتیجے میں تیزی کا رجحان مارکیٹ پر غالب آیا اور 939 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ انڈیکس ایک لاکھ 69 ہزار 429 پوائنٹس کی ریکارڈ ساز سطح کو چھو گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی کاروبار کے آغاز پر ہی مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا تھا اور 100 انڈیکس میں 593 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس سے انڈیکس ایک لاکھ 66 ہزار 233 پوائنٹس تک پہنچ گیا تھا۔ بعد ازاں دورانِ کاروبار تیزی کا یہ سلسلہ برقرار رہا اور انڈیکس میں مزید اضافہ ہوتا گیا، جس سے دن کے اختتام تک 100 انڈیکس 2 ہزار 849 پوائنٹس کے نمایاں اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 68 ہزار 489 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر بند ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پوائنٹس کی تیزی کا
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔