سندھ میں پیپلز پارٹی کے 17 سالہ دور میں 17 منصوبے گنوا کر دکھائیں‘ عظمیٰ بخاری کا چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے شرمیلا فاروقی کے بیانات پر سخت ردعمل میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ میں 17 سالہ دور حکومت کے باوجود 17 عوامی فلاحی منصوبے بھی نہیں گنوا سکتی، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صرف ڈیڑھ سال میں 90 منصوبے شروع کیے جن میں سے 50 مکمل ہو چکے ہیں۔ مریم نواز نے عوامی خدمت کے کئی انقلابی منصوبے متعارف کرائے ہیں جن میں اپنی چھت اپنا گھر سکیم کے تحت 90 ہزار گھر، 80 ہزار سکالرشپس، کسانوں میں ساڑھے 9 ہزار ٹریکٹرز کی تقسیم، طلبہ کو 27 ہزار الیکٹرک بائیکس اور جدید ترین لیپ ٹاپس کی فراہمی شامل ہیں۔ مریم نواز کی حکومت کو ابھی دو سال بھی مکمل نہیں ہوئے مگر کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ "آجائیں، کارکردگی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ مناظرے کے لیے میں تیار ہوں، سندھ میں ترقی ہو رہی ہے تو نظر کیوں نہیں آتی؟ شرمیلا فاروقی آئیں اور قوم کو دکھائیں۔" عظمٰی بخاری نے کہا کہ کراچی کے عوام بھی لاہور کی سڑکوں اور صفائی کی تعریف کرتے ہیں جس پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو پریشانی ہوتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔