مریم نواز نے پیپلز پارٹی کا معافی مانگنے کا مطالبہ مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے حالیہ بیان پر پیپلز پارٹی کی جانب سے معافی مانگنے کے مطالبے سے صاف انکار کردیا ہے۔
جمعرات کے روز لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ جب پنجاب پر حملہ ہوگا تو وہ ضرور جواب دیں گی، اور اگر بطور وزیر اعلیٰ پنجاب وہ اپنی عوام کی وکالت نہیں کریں گی تو کون کرے گا؟
یہ بھی پڑھیں: ’معافی مانگو‘: مریم نواز کے بیان پر پیپلزپارٹی کا سینیٹ سے بھی واک آؤٹ، قانون سازی کے بائیکاٹ کا اعلان
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان کشیدگی اُس وقت بڑھ گئی جب سیلاب متاثرین کی امداد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے فراہم کرنے کے معاملے پر اختلاف ہوا۔ پنجاب حکومت نے پیپلز پارٹی کی تجویز کو رد کر دیا، جبکہ مریم نواز نے فیصل آباد کے ایک تقریب میں نہروں کے منصوبے پر پیپلز پارٹی کے اعتراض کو بھی مسترد کردیا۔
مریم نواز کبھی معافی نہیں مانگے گی، پنجاب کے عوام کی بات ، پنجاب کے عوام کی عزت نفس کی بات مریم نواز نہیں کرے گی تو اور کون کرے گا ، وزیراعلی پنجاب مریم نواز pic.
— Imdad Ali Soomro (@imdad_soomro) October 2, 2025
منگل کے روز پیپلز پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیانات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا تھا۔ اس سے ایک روز قبل اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے دونوں جماعتوں کو عوامی سطح پر ایک دوسرے پر تنقید نہ کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
مریم نواز نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیلاب کے دنوں میں انہیں کہا گیا کہ بیرونی دنیا سے امداد مانگیں، لیکن وہ اپنی عوام کو کاسہ لے کر دنیا کے سامنے نہیں کھڑا کرسکتیں اور نہ ہی ان کی عزت نفس پر سمجھوتہ کریں گی۔
یہ بھی پڑھیں: آپ ہماری بہن اور بیٹی ہیں، اپنا لہجہ درست کریں، قمر زمان کائرہ کا مریم نواز کو مشورہ
انہوں نے 9 مئی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس نے بھی نوجوانوں کو جلاؤ گھیراؤ پر اکسایا وہی ان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ انہوں نے بغیر نام لیے کہا کہ جنہوں نے بچوں کو ملک پر حملہ کرنے پر اکسایا، ان کے اپنے بچے بیرونِ ملک بیٹھے ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنی حکومت کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سفارش اور دھاندلی پر فل اسٹاپ لگا دیا ہے۔ پنجاب میں اب امتحانی مراکز فروخت نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سب سے پہلے اللہ اور پھر پنجاب کے عوام کو جوابدہ ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انکم اسپورٹ پروگرام پیپلز پارٹی سیلاب سینیٹ قومی اسمبلی مریم نواز۔ مسلم لیگ ن معافی واک آؤٹ وزیراعلٰی پنجاب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انکم اسپورٹ پروگرام پیپلز پارٹی سیلاب سینیٹ قومی اسمبلی مریم نواز مسلم لیگ ن معافی واک ا ؤٹ پنجاب مریم نواز مریم نواز نے پیپلز پارٹی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس