حکومت نے پیپلز پارٹی کو منالیا، تمام مسائل بات چیت سے حل کرنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
نواز لیگ اور پیپلزپارٹی وفود کی اسیپکرقومی اسمبلی کے چیمبر میں ملاقات، ایک دوسرے کیخلاف سخت زبان استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی، ہمارے کسی لیڈر، کارکن نے پنجاب سے متعلق کوئی متنازع گفتگو نہیں کی
ہمارے کسی کارکن، پارٹی عہدیدار، رہنما کا پنجاب پر تنقید یا سوشل میڈیا پرلکھا ہے تو ثبوت دیں، اگرثبوت نہیں تو مریم نواز اپنے بیان واپس لیں،پیپلزپارٹی کا مؤقف،مریم نواز کے بیانات پرتحفظات کا اظہار
وفاقی حکومت نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تنقید پر ناراض اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو منا لیا۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے تمام مسائل افہام و تفہیم سے حل کرنے پر اتفاق کرلیا۔اسلام آباد میں مسلم لیگ( ن) اور پیپلزپارٹی کے وفود کی اسیپکرقومی اسمبلی کے چیمبر میں ملاقات۔ ملاقات میں دونوں اتحادی جماعتوں نے تمام مسائل افہام و تفہیم سے حل کرنے پر اتفاق کرلیا جبکہ ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال نہ کرنے کی بھی یقین دہانی بھی کروا دی گئی۔ملاقات میںا سپیکر ایازصادق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار،رانا ثنااللہ، اعظم نذیر تارڑ، طارق فضل چوہدری اوررانا مبشر شریک تھے۔ پیپلز پارٹی کے وفد میں سید نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی شامل تھے۔قبل ازیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے پیپلزپارٹی کے وفد نے ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بیانات واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔پیپلزپارٹی کا مؤقف تھا کہ ہمارے کسی لیڈر، کارکن نے پنجاب سے متعلق کوئی متنازعہ گفتگو نہیں کی۔ پی پی رہنماؤں نے کہا کہ ہمارے کسی کارکن، پارٹی عہدیدار، رہنما نے پنجاب پر تنقید یا سوشل میڈیا پرلکھا ہے تو ثبوت دیں۔ اگرثبوت نہیں تو مریم نواز اپنے بیان واپس لیں۔قبل ازیں وفاقی حکومت نے پیپلز پارٹی کی ناراضی دور کرنے کا فیصلہ کیا، وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نیاسحاق ڈار سے ملاقات کرکے پیپلزپارٹی کے تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی مریم نواز پارٹی کے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔