نواز لیگ اور پیپلزپارٹی وفود کی اسیپکرقومی اسمبلی کے چیمبر میں ملاقات، ایک دوسرے کیخلاف سخت زبان استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی، ہمارے کسی لیڈر، کارکن نے پنجاب سے متعلق کوئی متنازع گفتگو نہیں کی
ہمارے کسی کارکن، پارٹی عہدیدار، رہنما کا پنجاب پر تنقید یا سوشل میڈیا پرلکھا ہے تو ثبوت دیں، اگرثبوت نہیں تو مریم نواز اپنے بیان واپس لیں،پیپلزپارٹی کا مؤقف،مریم نواز کے بیانات پرتحفظات کا اظہار

وفاقی حکومت نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تنقید پر ناراض اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو منا لیا۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے تمام مسائل افہام و تفہیم سے حل کرنے پر اتفاق کرلیا۔اسلام آباد میں مسلم لیگ( ن) اور پیپلزپارٹی کے وفود کی اسیپکرقومی اسمبلی کے چیمبر میں ملاقات۔ ملاقات میں دونوں اتحادی جماعتوں نے تمام مسائل افہام و تفہیم سے حل کرنے پر اتفاق کرلیا جبکہ ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال نہ کرنے کی بھی یقین دہانی بھی کروا دی گئی۔ملاقات میںا سپیکر ایازصادق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار،رانا ثنااللہ، اعظم نذیر تارڑ، طارق فضل چوہدری اوررانا مبشر شریک تھے۔ پیپلز پارٹی کے وفد میں سید نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی شامل تھے۔قبل ازیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے پیپلزپارٹی کے وفد نے ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بیانات واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔پیپلزپارٹی کا مؤقف تھا کہ ہمارے کسی لیڈر، کارکن نے پنجاب سے متعلق کوئی متنازعہ گفتگو نہیں کی۔ پی پی رہنماؤں نے کہا کہ ہمارے کسی کارکن، پارٹی عہدیدار، رہنما نے پنجاب پر تنقید یا سوشل میڈیا پرلکھا ہے تو ثبوت دیں۔ اگرثبوت نہیں تو مریم نواز اپنے بیان واپس لیں۔قبل ازیں وفاقی حکومت نے پیپلز پارٹی کی ناراضی دور کرنے کا فیصلہ کیا، وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نیاسحاق ڈار سے ملاقات کرکے پیپلزپارٹی کے تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی مریم نواز پارٹی کے

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری